سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 28 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 28

اپنے لیے عار نہیں سمجھنا چاہتے۔قادیان میں ابھی ایک اچھا خاصہ طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جنہیں جب کام دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس کام کے کرنے میں ہماری تنگ ہے۔حالانکہ ہتک کام کرنے میں نہیں بلکہ نکما بیٹھ کر کھانے میں ہے ؟ ) الفضل ۱۷ - فروری ۱۹۳۹ ) اسی طرح فرمایا :- اس "جب میں کہتا ہوں کہ ہمیں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے تو اس مں دونوں باتیں شامل ہیں۔یعنی یہ بھی اس میں شامل ہے کہ کسی کام کو اپنے لیے عار نہ سمجھا جائے۔۔۔پس ہاتھ سے کام کرنے کو جب میں کہتا ہوں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ عام کام جن کو دنیا میں عام طور پر بُرا سمجھا جاتا ہے۔اُن کو بھی کرنے کی عادت ڈالی جائے مثلاً مٹی ڈھونا یا ٹوکری اُٹھانا ہے۔کئی رکشتی چلانا ہے اوسط طبقہ اور امیر طبقہ کے لوگ اگر یہ کام کبھی کبھی کریں تو یہ ہاتھ سے کام کرنا ہوگا۔ورنہ یوں تو سب ہی ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔یہ کام ہمارے جیسے لوگوں کے لیے ہیں۔کیونکہ ہمیں ان کی عادت نہیں۔اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ ہماری عادتیں ایسی خراب ہو جائیں یا اگر ہماری نہ ہوں تو ہماری اولادوں کی عادتیں ایسی خراب ہو جائیں کہ وہ ان کو بُرا سمجھنے لگیں۔اور پھر کوشش کریں کہ دنیا میں ایسے لوگ باقی رہ ہیں جو ایسے کام کیا کریں۔اس کا نام " غلامی ، ہے۔۔۔۔۔اس تحریک سے دوضروری فوائد حاصل ہوں گے۔ایک تو نکما پن دو ہوگا دوسرے غلامی کو قائم رکھنے والی روح کبھی پیدا نہ ہوگی۔یہ فیصلہ کر لینا چاہیئے کہ فلاں کام بُرا ہے اور فلاں اچھا ہے۔بُرا کام کوئی نہ کرنے اور اچھا چھوٹے بڑے سب کریں۔بُرا کام مثلاً چوری ہے۔یہ کوئی بھی نہ کرے اور جو اچھے ہیں اُن میں سے کسی کو عاد نہ سمجھا جائے۔تا اس کے کرنے والے ذلیل نہ سمجھے جائیں۔اور جب دنیا میں یہ مادہ پیدا ہو جاتے کہ کام کرنا ہے اور نکما نہیں رہنا اور کسی کام کو ذلیل نہیں سمجھنا تو اس طرح کوئی طبقہ ایسا نہیں رہے گا جو دنیا میں غلامی چاہتا ہو۔“ تعميرة الفضل ۷ ار مارچ ۱۹۳۹ دور میں اپنے نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تعلیم محض اس لیے حاصل نہ کریں کہ اس