سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 27
۲۷ چاہتے کہ میں نے فلاں فن میں چوٹی کا آدمی بنا ہے یا اسی کوشش میں فنا ہو جانا ہے" ) الفضل ٢٤ ستمبر ة ) ( بلند پروازی اسی کو کہتے ہیں کہ انسان اپنی موجودہ حالت سے اوپر ایک مقصد معین کرے۔پھر یہ سوچے کہ یہ مقصد کن ذرائع سے حاصل ہو سکتا ہے۔جب ذرائع اپنی معین صورت میں سامنے آجائیں تو پھر اس امر پر غور کرے کہ کن طریقوں سے یہ ذرائع فراہم ہو سکتے ہیں۔جب کوئی شخص یہ طریقے معلوم کر کے مصروف عمل ہو جاتا ہے تو ذرائع خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔اور بالآخر وہ مقصد مل جاتا ہے جس کے لیے یہ سب کوشش ہو رہی تھی۔اگر ایسا ظہور میں نہیں آتا تو وہ بلند پروازی نہیں۔خام خیالی یا واہمہ ہے۔ایسا شخص ہمیشہ خوابوں کی دُنیا میں اُلجھا رہتا ہے۔پس ہماری جماعت کے نوجوانوں کو غور و فکر اور بلند پروازی کی مشعل را و صفحه ۷۵۳-۷۵۴ ) عادت ڈالنی چاہیتے " شعبه وقار عمل :- وقار عمل کی اصطلاح امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے اور اسے عار نہ سمجھنے کے متعلق استعمال فرماتی ہے۔اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔"میں چاہتا ہوں کہ اس کام کو اتنا وسیع کیا جائے کہ نہ صرف قادیان میں بلکہ بیرونی جماعتوں میں بھی کوئی بیوہ اور غریب عورت ایسی نہ رہے جو کام نہ ملنے کی وجہ سے بھو کی رہتی ہو۔ہمارے ملک میں یہ ایک بہت بڑا عیب ہے کہ وہ بھوکا رہنا پسند کریں گے مگر کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی اصلاح ہونی چاہیئے اور یہ اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہر شخص یہ عہد کرے کہ وہ مانگ کر نہیں کھائے گا بلکہ کما کر کھائے گا۔اگر کوئی شخص کام کو عیب سمجھتا ہے اور پھر بھو کا رہتا ہے تو اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ، لیکن اگر ایک شخص کام کے لیے تیار ہو لیکن بوجہ کام نہ ملنے کے وہ بھوکا رہتا ہو تو یہ جماعت اور قوم پر ایک خطرناک الزام اور اس کی بہت بڑی بہتک اور سبکی ہے اس کام مبا کرنا جماعتوں کے ذمہ ہے ، لیکن جو لوگ کام نہ کریں اور سستی کر کے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالیں ان کی ذمہ داری جماعت پر نہیں بلکہ ان کے اپنے نفسوں پر ہے۔کہ انہوں نے باوجود کام ملنے کے محض نفس کے کسل کی وجہ سے کام کرنا پسند نہ کیا اور بھوکا رہنا گوارا کرلیا۔۔۔نکما بیٹھ کرکھانا نہایت غلط طریقی ہے کام کر کے کھانا چاہیے۔اور کسی کام کو