سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 279
۲۷۹ آپ فرماتے ہیں :- "میں نے جماعت کو صبر اور تحمل کی ہدایت کی تھی اور نصیحت کی تھی کہ لوگ سوئے لے کر نہ پھریں۔اور ان تمام احکام کی جو حکومت برطانیہ کے نمائندوں کی طرف سے دیتے جائیں اطاعت کریں۔میں آج کے خطبہ میں پہلے دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے اس فعل پر اظہار خوشنودی کرتا ہوں کہ با وجود اشتعال انگیزی کے سامانوں کے پیدا ہونے کے انہوں نے صبر اور تحمل سے کام لیا۔اور سوائے شازو نادر کے یا سوائے کسی غلط فہمی کے پیدا ہو جانے کے ان کی طرف سے کوئی بات ایسی نہیں ہوتی جو میرے لیے موجب شرمندگی اور ان کے لیے موجب پریشانی ہو۔بے شک ہم ان دنوں میں سنتے تھے۔بے شک حکومت نے اپنے زور اور طاقت سے باوجود اس کے کہ یہ ہمارا گھر تھا۔ہمیں خود حفاظتی کی تدابیر سے محروم کر دیا تھا۔پھر بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بچے اور مخلص ممبر خدا تعالیٰ کے فضل سے شیر ہیں اور شیر بغیر ہتھیاروں کے ہی لڑا کرتا ہے۔میں نے سلسلہ کے مصالح کے لحاظ سے آپ کی زبانیں بند کر دی تھیں آپ کے ہاتھ باندھ دیتے تھے۔لیکن باوجود اس کے میں جانتا ہوں کہ آپ کے کل اخلاص اور اس محبت کے وفور کی وجہ سے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ذات اور سلسلہ سے ہے۔ایسے جوش سے پُر تھے کہ جس کے سامنے دنیا کی کوئی دیوار اور کوئی قلعہ ٹھہر نہیں سکتا۔آپ کی فرمانبرداری ذلت اور بے چارگی کی فرمانبرداری نہیں تھی۔بلکہ طاقت کے ساتھ فرمانبرداری تھی۔۔۔۔۔بعض پولیس افسروں اور ماتحتوں کے شریفانہ رویہ کی تعریف کرنے اور موقع پر موجود مجسٹریٹوں کی جانبداری کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا : مومن کا کوئی کام خفیہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ہمارے کاموں میں پہلے کبھی اخفا ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا۔کیونکہ ہمارا حساب صاف اور ہماری نہیں نیک ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ یہ ساری باتیں ان الفاظ میں آجائیں جن میں میں پیش کرتا ہوں یا قریب قریب انی الفاظ میں اور ہر ایک کو معلوم ہو جائیں لیکن مضمون شروع کرنے سے پیشتر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو دوباتیں یاد رکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ ہر شخص جو سلسلہ میں داخل ہے جس نے میرے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اور آپ کے ذریعہ آنحضرت