سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 278 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 278

YLA بعض احرار لیڈروں نے اپنی تقریروں میں پاکستان کو پلیدستان بھی کہا۔احرار نے مجوزہ تقسیم کی مخالفت کی اور اس کو وطن کی چیر پھاڑ قرار دیا۔احرار کے ہر لیڈر نے اپنی ہرا ہم تقریر میں مسلم لیگ پر تنقید کی۔اس کے لیڈروں پر نکتہ چینی کی۔یہاں تک کہ قائد اعظم کو بھی نہ چھوڑا جن سے وہ سخت متنفر تھے کہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ منفہ ۱۱۱) تبلیغی کانفرنس : تو یہ تھا نہ کا وہ منظر جس میں مذہبی اور سیاسی طاقتوں نے مجتمع ہو کر جماعت کے خلاف ایک محاذ کھولا اور یہ اعلان کیا کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ؟ ہم منارة المسیح کی اینٹیں دریائے بیاس میں بہا دیں گے “ " " قادیان اور اس کے گرد و نواح سے احمدیت کا نام و نشان ختم کر دیں گے؟ یہ اور ایسے ہی بڑے بڑے دعاوی اور تعلیوں کے جلومیں مجلس احرار نے مخالفت کی مہم چلائی اور نظریہ ظاہر یہ تعلیات زیادہ بعید از قیاس بھی نہ تھیں کیونکہ جس قدر ذرائع و وسائل ان کو میسر تھے اس کے مقابل میں جماعت تو کنجشک بے مایہ ہی تھی مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس وقت ان کے کان میں کوئی یہ بھی کہ دیتا کہ فرعون بھی انار بکم الاعلیٰ کا دعوی کرتا تھا۔ابو جہل اپنے کو رمیں الوادی اور کتہ کا بے تاج بادشاہ سمجھتا تھا مگر ان کے ذرائع اور وسائل " العروة الوثقى لا انفصام لها “۔کے مقابل تار عنکبوت کی طرح بے حقیقت ثابت ہوئے۔یہ اس مجلس احرار کا مختصر تعارف ہے جو حضرت مصلح موعود کے مقابلہ پرختم ٹھونک کر میدان میں آتے انہیں خوب معلوم تھا کہ ہندو سیٹھوں کا سرمایہ ان کی پشت پر ہے۔گاندھی نہرو چانکیہ ان کی پالیسی وضع کرتے ہیں۔علما شہر کی فتنہ انگیزی بدرجہ کمال انہیں میتر ہے۔اسی کیل کانٹے پر منحصر نہیں انگریزی حکومت کے بعض افسر بھی ان کی تائید میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ میں احرار کو قادیان میں اپنی تبلیغی کا نفرنس کرنے کی اجازت اس شان سے دی جاتی ہے کہ احمدیوں کو اس جلسہ میں شامل ہونے سے روک دیا جائے کہ وہ تبلیغ سن ہی نہ سکیں اور یہ بھی کہ احمدی خود حفاظتی کے طور پر کوئی اقدام نہ کرسکیں اور کسی متوقع یا موہوم اقدام کے پیش نظر گورنمنٹ یہ بھی ضروری سمجھتی ہے کہ جماعت کے ہر دلعزیز محبوب رہنما کو ایک ذلت آمیز نوٹس جاری کرے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت آفرین بیان حضرت مصلح موعود کی زبان سے ہی مناجاتے