سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 274 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 274

帅 سیاست کی راہ سے فرنگی سیاست کے شاہ کار پر حملہ آور ہو گئے ؟“ ) اخبار آزاد ۳۰ اپریل سدا ( تاریخ احمدیت جلد ۷ صفحه (۳۸-۳۸۲) مجلس احرار کی سیاست جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اول آخر جھوٹ کی سیاست تھی۔اسی وجہ سے انہوں نے اپنے اسلحہ خانہ میں فرنگی استعمار کا کاشتہ پودا ایک ایسا داؤ چُھپا رکھا تھا جس کے متعلق مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب کو یقین تھا کہ " اس داؤ کا گھاؤ گہرا ہے " مگر به ایجاد بندہ دار اندھے کی لاٹھی کی طرح خود احراری تصریحات کے مطابق خاکسار تحریک - مسلم لیگ۔ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال نظریہ پاکستان مختلف مسلم اکابر علما مرستید - غلام احمد پرویز ادارہ ثقافت اسلامیہ وغیرہ پر بھی جب اور جس طرح چاہا استعمال کیا گیا قطع نظر اس کے کہ انس میں حقیقت کا کوئی شائبہ تھا بھی یا نہیں۔احرار کے مقاصد احمدیوں کی۔علی رغم انف اعدام کامیابیاں اور ترقیات مجلس احرار کے بغض و حسد میں اضافہ کا باعث بنے لگیں چنانچہ مشہور احراری لیڈر مولوی حبیب الرحمان لدھیانوی نے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے مسجد خیر الدین امرتسر میں اپنی ایک تقریر میں کہا : احمدی اپنی سیاسی طاقت کو بڑھا کہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ہماری اور گورنمنٹ کی سیاسی طاقت کو یہ آہستہ آہستہ چھین رہے ہیں۔۔۔۔ہم نے ان کی طاقت کو دبانا اور سیاسی قوت کو تباہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ہم نے ایک سال کے لیے عہد کر لیا ہے کہ نہ چاروں کو نہ ہندوؤں اور سکھوں کو نہ عیسائیوں کو تبلیغ کریں گے اور نہ ان کے پاس جائیں گے صرف استیصال مرزائیت کریں گے۔۔۔۔۔۔ایک ہندو نے مجھ سے سوال کیا کہ جب نبوت کا دروازہ کھلا ہے تو مہاتما گاندھی نبی کیوں نہیں ہو سکتے۔کیا انہوں نے نبیوں اور رسولوں والے فضائل اور اخلاق کا نمونہ نہیں دکھایا۔میں نے اس ہندو کو کہا کہ واقعی تمہارا سوال درست اور وزنی ہے۔بحواله الفضل ۲۹ ؍ مارچ ۱۹۳۳-) ---- اس بیان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جماعت کی مخالفت کی وجوہ سراسر سیاسی تھیں۔مذہبی اقدار و شعائر کا احترام تو ان کے ہاں اتنا ہی تھا کہ گاندھی جی میں انہیں رسولوں والے فضائل و اخلاق نظر آتے ہیں۔اور مشہور احراری لیڈر مولوی عطا اللہ بخاری کی تو ہر تقریر میں یہ ٹیپ کا بند