سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 256
۲۵۶ شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا برقی پیغام کشمیر کمیٹی کی خدمات کا اعتراف : " سری نگر ۱۶ - دسمبر - شیخ محمد عبداللہ صاحب نے "الفضل" کے نام سری نگر سے یہ برقی پیغام ارسال فرمایا ہے کہ میرے متعلق غلط بیانیاں کی گئی ہیں۔مثلاً یہ کہ میں سول نافرمانی اور محاصل کی عدم ادائیگی کی تیاریاں کر رہا ہوں اور مساوی عدالتیں قائم کر رہا ہوں۔نیز یہ کہ میں احرار کے بے غرض کا رہناموں اور کشمیر کیٹی کے شاندار کام کا معترف نہیں۔اس کے جواب میں میں مندرجہ ذیل حقائق شائع کرانا چاہتا ہوں : " ہم نے ابھی سول نافرمانی کا مشورہ نہیں دیا ، لیکن ہمارا خیال ہے کہ لوگ اس کے لیے تیار ہیں اور اگر آئندہ ضرورت محسوس ہوتی تو یہ مہم شروع کی جاسکتی ہے۔ہم نہیں چاہتے کہ مسلمان عدالتوں میں وقت اور روپیہ فضول ضائع کریں۔لیکن ہم نے عدالتوں کے اختیار کو زائل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہمارا خیال ہے کہ ہمارے ہزاروں بھائیوں نے جو عدیم المثال قربانیاں کی ہیں اور ہمارے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر جیلوں میں گئے ہیں۔اس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا اور کشمیر کمیٹی کی مفید خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔گائے کی حفاظت کے مسئلہ کی ہم مہا راجہ صاحب اور ہندو بھائیوں کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے مخالفت نہیں کرتے اور گاتے کی حفاظت کی جاسکتی ہے لیکن ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ گاؤ کشی کو موجودہ طریق پر جُرم قرار دیا جائے ؟ د الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۳۷ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضور نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت کشمیری مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت اور مسلم اکابرین کے اصرار پر قبول کی تھی اور حضور کا منشا یہ تھا کہ اس مشترکہ مقصد کے لیے قومی سطح پر مختلف الخیال مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے متحدہ کوششوں سے ریاستی مسلمانوں کی غلامی کی زنجیریں توڑی جائیں۔اس امر کی وضاحت کہ حضور اس کمیٹی کی صدارت کو اپنے لیے کوئی وجہ افتخار سمجھ کر اس سے چھٹے رہنا چاہتے تھے یا آپ کا مقصد محض قومی خدمت تھا۔حضور کے مندرجہ ذیل بیان سے بخوبی ہو جاتی ہے۔" - جبس وقت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس شملہ میں منعقد ہوا تو جو ممبراس