سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 204
۲۰۴ سو بلکہ چار چار سو گز تک مار کر جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں اتنے بڑے گاؤں کتنے ہیں۔بالعموم ایسے چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں کہ ایک ایک ہم سے اُڑ جائیں نہ کسی انسان کا پتہ لگے اور نہ کوئی جانور باقی رہے۔۔۔۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ غفلت اور سنگدلی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بعض لوگ ایسے مزے سے لے کر جنگ کی خبریں بیان کرتے ہیں کہ گویا دُنیا پر کوئی آفت آتی ہی نہیں۔۔چاہتے کہ رات دن گریہ وزاری میں گذریں آج وہ زمانہ نہیں کہ ہنسو زیادہ اور رقو کم انسان کو چاہیے کہ آج روئے زیادہ اور ہنسے کم بلکہ چاہیئے کہ انسان روتے ہی روتے اور مہنی اس کے لبوں پر بہت ہی کم آئے تا آسمان سے وہ سامان پیدا ہوں جو ہماری بھی اور دوسرے لوگوں کی بھی کہ وہ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ان تباہ کن سامانوں سے حفاظت کر سکیں ذرا غور کرو کہ ایک منٹ میں آکر گولہ لگتا ہے یا مائن پھٹتی ہے اور چشم زدن میں ہزار دو ہزار انسان سمندر کی تنہ میں پہنچ کر مچھلیوں کی خوراک بن رہے ہوتے ہیں۔اگر انسان کو کہیں ایک لاش بھی باہر پڑی ہوئی مل جائے تو دل دہل جاتا ہے مگر یہاں تو ہزاروں لاشیں روزانہ سمندر میں غرق ہو رہی ہیں۔انگریزی بحری جہازوں کے ڈوبنے کی اوسط ہفتہ وار ساٹھ ہزار ٹن ہے۔۔۔۔۔پس ساٹھ ہزار ٹن جہازوں کے غرق ہونے کے منے یہ ہوئے کہ چھ ہزار ۱۹۴۱ جانیں ہر ہفتہ سمندر کی تہ میں پہنچ جاتی ہیں ( الفضل ۴ جوان ۱۹ ) جنگ لمبی ہوتی جا رہی تھی مسلسل شکستوں کے بعد اتحادیوں کے حالات کسی قدر بہتر ہو رہے تھے۔کہ جاپان بھی اتحادیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو گیا۔اس وجہ سے محور یوں کے حملوں میں غیر معمولی شدت آگئی اور بظاہر یوں معلوم ہونے لگا کہ اتحادی شکست کھا جائیں گے۔جاپانی بھی اپنے حملوں کی کامیابی پر اتنے نازاں تھے کہ ان کے خیال میں جنگ کا خاتمہ ان کی مرضی کے مطابق اس وقت ہوگا جب چاہیں گے اور انہیں یقین تھا کہ وہ بآسانی دس میں سال جنگ کو جاری رکھ کر اپنے دشمنوں کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ان حالات میں حضور نے خُدائی اشارہ کے تحت بالآخر اتحادیوں کی کامیابی اور فتح کی خبر دیتے ہوئے فرمایا :- اگر ایسی حالت میں انگریزوں نے مقابلہ کو جاری رکھا تو امید ہے کہ ان کی شکست فتح سے بدل جائے گی " وہ دید