سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 189 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 189

۱۸۹ بہر حال تمام گھبراہٹ، اضطراب اور تشویش کا موجب وہ نادان لوگ ہیں جن کو حالات کا صحیح علم نہیں ہوتا اور جو جنگی فنون سے ناواقفیت کی وجہ سے خبروں کا کچھ کا کچھ بنا کر لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ نہایت ہی غلط طریقی ہے کہ قیاسات سے کام لے کر ملک میں بدامنی پیدا کی جائے اور سول وار کے سامان پیدا کئے جائیں۔یہ انگریزوں سے نہیں ہندوستان سے دشمنی ہوگی لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہتے کہ جہاں ان حالات کی اصلاح کی کوشش کی جائے وہاں ان خرابیوں کو بھی نظر اندا نہ نہیں کرنا چاہتے جو اس قسم کی غلط خبروں کی اشاعت سے پیدا ہوگئی ہیں۔اگر بعض لوگوں میں یا حساس پیدا ہوگیا ہے کہ انگریزی طاقت کمزور ہو چکی ہے اور اگر ملک میں اندر ہی اندر ملکی امن برباد کرنے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں تو وہ قوم سخت بیوقوف ہوگی جو اس کے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔پچھلی جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔چنانچہ جھنگ کے ایک آدمی نے جب یہ دیکھا کہ فرانس لڑائی میں مُردہ ہو رہا ہے اور انگریز جرمنی کے مقابلہ میں پیسا ہو رہے ہیں تو اس نے اعلان کر دیا کہ میں اپنے علاقہ کا بادشاہ ہوں اور ضلع میں فساد پیدا کر دیا۔اس جنگ میں بھی اس قسم کے واقعات پیدا ہو سکتے ہیں۔اور ایسے موقعہ پر ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایسے فسادیوں کا مقابلہ کرے۔۔۔۔۔۔۔ہمارے ملک کے۔۔۔۔نوجوان جب آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اودھر فرانسیسیوں نے جرمن حملہ کو روکا ہوا ہے ادھر جنرل ودیگان چپ کر کے بیٹھا ہوا ہے وہ کیوں جرمنوں پر جوابی حملہ نہیں کر دیتا محض جنگی فنون کی نا واقفیت کی وجہ سے اس قسم کے اعتراضات دل میں پیدا ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقفہ کو خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھ رہے ہیں کیونکہ صاف بات ہے جب فرانسیسی اور انگریزی فوجیں اپنے مورچوں سے ہٹ گئیں اور جرمن فوجوں کے مقابلہ میں انہوں نے پسپا ہونا شر قرع اور کر دیا تو پسپا شدہ فوج کبھی ایک جگہ تک نہیں سکتی۔اس کے لیے خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت نہیں ہوتی ہے کہ چند دن کی اُسے مہلت مل جاتے تاکہ وہ اپنے مور وں کواس دوران میں مضبوط کرے۔چنانچہ جرمنی نے جب شمالی فرانس پر حملہ کر دیا اور چاہا کہ انگلش چینل (CHANNEL ) تک پہنچ جائے تو اتحادیوں نے اپنی فوج کا ایک حصہ اس کے مقابلہ