سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 190 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 190

19۔کے لیے رہنے دیا اور باقی فوج کو اپنے مورچے مضبوط کرنے کے لیے پیچھے ہٹا لیا اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو فتح ہوتی اور کس کو شکست، مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ معقول بات ہے کہ بجائے اس کے کہ ساری فوج شمالی حصہ کی جنگ میں شامل ہوتی۔انہوں نے شمالی فوج کو جنگ کا زور برداشت کرنے کے لیے چھوڑ دیا اور جنوبی فوجوں کو نئے مورچوں کی مضبوطی کے کام پر لگا دیا تاکہ جب شمال سے فارغ ہو کر دشن جنوب پر حملہ کرے تو وہ اپنے سامنے سر سکندری کھڑی پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔پس انہوں نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے فوج کے ایک بڑے حصہ کو تو جنوب میں جمع کرنے اور مضبوط مورچوں میں بٹھانے کو جھوٹی بڑائی پر مقدم سمجھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ گو بظاہر فرانسیسی کمان پر یہ اعتراض ہے کہ اس نے شمالی فوج کو اس کے حال پر چھوڑ کر جرمن فوج کے لیے زیادہ خطرہ پیدا کر دیا۔کیونکہ بوجہ بالکل گھر جانے کے اس فوج نے جرمن فوج کا نہایت سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا بہت نقصان کر دیا ایسا حملہ دہی سپاہی کر سکتے ہیں جو موت کو اپنے سامنے کھڑا دیکھتے ہیں۔اس کے ساتھ فرانسیسی کمان نے جنوبی فوج کے لیے سانس لینے کا وقت نکال لیا اور انہیں مورچے مضبوط کرنے کا موقع دے دیا۔شمالی فوج کو جس بے بسی میں چھوڑا گیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ اس فوج کا ہر سپاہی جرمن حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے کیونکہ ایک جرمن کے سامنے صرف فتح کا خیال ہے مگر ایک اتحادی کے سامنے صرف فتح کا ہی سوال نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی سوال ہے بلکہ اس کی عزت اس کی قوم اور اس کے ملک کے خطرات بھی اس کے سامنے ہیں مگر اس کے علاوہ ہر سیاہی سمجھتا ہے کہ اگر ایک دفعہ بھی اس کی آنکھ جھپک گئی تو وہ زندہ نہیں رہے گا۔اس وجہ سے ایک ایک اتحادی چار چار پانچ پانچ جرمن سپاہیوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور جنوبی فوجوں پر جرمن حملے کا جو زور تھا وہ رک گیا ہے اس کے ساتھ ہی فرانسیسی اور انگریز تے مورچے بنا رہے ہیں اور انہیں مضبوط سے مضبوط تر بناتے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔اس وقت دنیا کی عزت کا سوال ہے۔اس وقت دنیا کے امن چین راحت اور زندگی کا سوال ہے۔یہیں کیسا ہی بے شرم اور بے حیا وہ شخص ہے جو گھر میں بیٹھ کر نبوی سُنتا اور کبھی اس پر تمسخر اڑا دیتا ہے اور کبھی اس پر۔اور یہ نہیں دیکھتا کہ اس وقت پندرہ میں لاکھ آدمی چاہے وہ جرمنی کے ہوں۔۔۔برطانیہ کے ہوں۔۔۔۔فرانسی ہوں۔۔۔پولش ہوں۔۔۔اور چاہے وہ کسی