سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 18 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 18

ہوئے آپ نے فرمایا :- میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے دباؤ کے ماتحت بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔جماعتی دباؤ ایک بہت بڑا حربہ ہے۔تم غیر احمدیوں سے کئی دفعہ سنتے ہو کہ احمدیت تو بستی ہے، لیکن رشتہ دار نہیں چھوڑے جا سکتے۔اور رشتہ داروں کی مخالفت برداشت نہیں ہو سکتی۔پس اگر قومی دباؤ جھوٹ کی تائید میں ہوگا تو جھوٹ پھیلے گا۔اگر قومی دباؤ سچ کی تائید میں ہو گا تو سیچ پھیلے گا اور لوگوں کو امن ملے گا۔کیونکہ سچ سے دنیا میں ہمیشہ امن قائم ہوتا ہے۔پس تم اس قومی دباؤ سے فائدہ اُٹھاؤ" مشعل راه ام ، خطبه جمعه ۱۴ فروری شه ) اسی طرح ایک اور موقعہ پر فرمایا :- "اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب بنا ئیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ بنات امام اللہ قائم ہیں۔اسی طرح ہر جگہ نوجوانوں کی انجمنیں قائم لوگوں سے اقرار لیے جائیں کہ وہ آئندہ اسلامی تمدن اور تہذیب کے مطابق عمل کریں گے۔اور جہاں تک حکومت کا قانون ان کو اجازت دیتا ہے۔تمدنی۔معاشی معاشرتی اور دوسرے معاملات میں اسلامی تعلیم کو رائج کریں گے۔یہ کوئی معمولی کام نہیں بعض چیزیں جو دل میں گڑ جاتی ہیں ان کا نکالنا مشکل ہوتا ہے۔اس لیے اس کام پر سخت جد وجہد کرنی ہوگی۔مثلاً بد دیانتی اور محنت نہ کرنے کا مرض ہے۔یہ ایسا مرض ہے جو بہت ہی خطرناک ہے اور بہت سے نقصانات کا موجب ہے۔۔۔۔۔۔ان چیزوں کو دور کرنے کے لیے ہمارے دوستوں کو بہت سی لڑائی اپنے نفسوں سے اور دوسروں سے کرنی پڑیگی لیکن نتیجہ نہایت اچھا ہوگا۔کیونکہ اگر ہماری جماعت اپنی دیانت کا سکہ بٹھا دے اور اس لحاظ سے اپنی شہرت قائم کرے تو اقتصادی مشکلات کا خود بخود حل ہو سکتا ہے؟ الفضل ۲۱ جنوری شاته ) میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوںکہ وہ اتنے اعلی درجہ کا نمونہ قائم کریں کہ نسل بعد السل اسلام کی روح زندہ رہے۔اسلام اپنی ذات میں تو کامل مذہب ہے لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ شربت