سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 173
۱۷۳ خیالات کا حامل ہے۔۔۔۔۔۔۔مطالعہ کرنے والا ان تفاسیر جدیدہ میں مستشرقین اور یوروپین معاندین کے اعتراضات کے مفصل جواب پاتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ امام جماعت احمدیہ نے اس ترجمہ کے ساتھ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بھی تحریر کی ہے اور یہ سیرت و ترجمہ بے نظیر ہیں " دشق کے الاخبار نے جماعت احمدیہ کا قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ اپنی مثال آپ ہے " کے عنوان سے اس ترجمہ کی خبر نمایاں طور پر شائع کی۔تاریخ احمدیت جلد دہم صفحه ۶۷۶۶۷۵۰۶۷۴) حضرت مصلح موعورت کے عہد مبارک میں انگریزی ترجمہ کے علاوہ مندرجہ ذیل زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ ہوا تا یہ زبانیں بولنے والی قومیں بھی قرآنی برکات سے بہرہ ور ہو سکیں۔جرمن ڈچ ڈینش سواحیلی ه لو گنڈا روسی مینڈی 0 فرانسیسی۔ہسپانوی 0 اٹالین پرتگیزی نگویوں کی کامیا ہ انڈونیشین 0 اسیرا تغیر کبیر کا عظیم کام جاری تھا اور دُنیا اس سے بصد شوق استفادہ کر رہی تھی مگر حضور کی غیر معمولی مصروفیات اور ذمہ داریاں اس کام کے تسلسل میں روک نہتی تھیں۔حضور کی کمزور صحت بھی کسی حد تک کام کی رفتار پر اثر انداز ہوتی تھی۔ان امور کو دیکھتے ہوتے حضور نے مناسب خیال فرمایا کہ قرآن مجید کے با محاورہ سلیس اردو ترجمہ کا کام جلد مکمل کر دیا جاوے۔حضور کے عزم و ہمت کی پر ایک عجیب مثال ہے کہ جب عمر اور صحت کے لحاظ سے ڈاکٹر آپ کو بجا طور پر آرام کرنے اور کام کم کرنے کا مشورہ دے رہے تھے اور بعض حساد نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ آپ اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے کوئی قابل ذکر کام کرنے کے اہل نہیں رہے آپ نے بنی نوع انسان تک قرآن مجید کے صحیح ترجمہ کو پہنچانے کے انتہائی مشکل مگر ضروری کام کا بیڑا اٹھایا اور اس طرح قرآن مجید کے ہر طالب و شیدائی کے لیے تفسیر صغیر جیسی نعمت غیر مترقبه مهیا فرما دی۔تغییر صغیر سے پہلے عام مروج اُردو ترجموں نے اپنے اپنے وقت میں بہت اچھا کام کیا اور یہ ان مشاہیر کی بہت بڑی خدمت تھی جو انہوں نے قرآنی معارف کو عام کرنے کے لیے بڑے پیارا در خلوص سے سرانجام دی۔مگر زمانے کے تقاضے۔غیر مسلموں کے اعتراضات اور اردو زبان کی ترویج و ترقی سے یہ