سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 174 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 174

۱۷۴ ضروری ہوگیا تھا کہ عام فہم زبان میں قرآنی الفاظ کے ساتھ ساتھ قرآنی روح وفلسفہ سے مطابقت رکھتا ہوا سلیس ترجمہ کیا جائے جسے پڑھ کر عام عقل و فہم کا قاری قرآن مجید کے مفہوم کو سمجھنے اور غیر مسلموں کے اعتراضات کا جواب دینے کے قابل ہو سکے۔تفسیر صغیر کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ عربی زبان کی باریکیوں اور قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قسم کا ترجمہ کیا گیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کا وہ حسن نظر آنے لگتا ہے جو بڑی بڑی تفسیروں کے مطالعہ سے ہی نظر آسکتا تھا۔مزید کمال یہ ہے کہ لفظوں کے صحیح انتخاب سے ترجمہ اس طرح مربوط و مسلسل ہو گیا ہے کہ اس کے سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی۔لأريت فاکر میری یہ خوبی بھی ات و شک کی گرد ڈالنے کی کوشش کر کریں لے جہاں جہاں اس کا اس جگہ بے ہے کہ فہم غیر کتاب پر کی ہے وہاں صحیح ترجمہ کے ذریعہ سے اس شک کی بنیاد ہی ختم کر دی گئی ہے۔بعض پرانے ترجموں اور تفسیر صغیر کے ترجمہ کا باہم موازنه و مقابلہ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْاً۔۔۔۔۔۔الله (البقرة :٢٢) متداول تراجم : اور جب تم لوگوں میں سے کسی نے ایک آدمی کا خون کر دیا پھر ایک دوسرے پر اس کو ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا ظاہر کرنا مقصود تھا جس کو مخفی رکھنا چاہتے تھے اس لیے ہم نے حکم دیا کہ اس کو اس کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو۔اس طرح حق تعالیٰ قیامت میں مردوں کو زندہ کریں گے۔ترجمہ کا ابہام قابل غور ہے۔تفسیر صغیر اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کرنے کا دعوی کیا پھر تم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا۔حالانکہ (جو کچھ تم چھپاتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے والا تھا۔اس پر ہم نے کہا کہ اس (واقعہ ) کو اس (نفس) کے ساتھ پیش آنے والے بعض اور واقعات سے ملا کر دیکھو پھر تمہیں حقیقت معلوم ہو جائے گی ، اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنے نشان دکھاتا ہے تاکہ تم عقل کرو۔O وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ۔۔الآيم (البقرة : ۶۵) مند اول تراجم : اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے شروع تجاوز کیا تھا درباره راس حکم کے جو ) یوم ہفتہ کے متعلق تھا، سو ہم نے ان کو کہ دیا کہ تم بندر دیل بن جاؤ۔