سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 166
144 تو متعین تھی لیکن راستہ نہ تھا مسلمانوں کی انجمن اتحاد المسلمین ہو یا کوئی اور جماعت ان سب کی حالت یہی ہے۔دوسرے دن میں نے تفسیر کبیر کا مطالعہ شروع کیا جو میں اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔تو مجھے اس تفسیر میں زندگی سے معمور اسلام نظر آیا۔اس میں وہ سب کچھ تھا جس کی مجھے کو تلاش تھی۔تفسیر کبیر پڑھ کر میں قرآن کریم سے پہلی دفعہ روشناس ہوا جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔اپنا مسلک چھوڑ کر احمدیہ جیسی جماعت میں داخل ہونا جس کو تمام علمائے اسلام نے ایک ہوا بنا رکھا ہے۔کچھ معمولی بات نہیں لیکن حق کے گھل جانے کے بعد میاں خطرات کی پر وابھی کسی کو نہ تھی۔تاہم سجدہ میں گر کر شب و روز میں نے دُعائیں شروع کیں کہ یا اللہ مجھے صراط المستقیم دکھا۔کئی ماہ اسی حالت میں گزر گئے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری سجدہ کی زمین آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی۔مجھے یقین ہے کہ میری دعائیں قبول ہوئیں کیونکہ احمدیت کو سچا سمجھنے کے عقیدے میں مستحکم ہو گیا اور قادیان سے حضرت میاں مرزا وسیم احمد صاحب کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ سے میں نے درخواست کی کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔میری قید کا بڑا حصہ سکندر آبادجیل میں گذرا وہاں کے جیلر ایک مسلمان اور رسم دوست کم بھی تھے۔قیدیوں کی پوری خط وکتابت ان لوگوں کے علم میں رہتی ہے۔کیونکہ انکے دستخط کے بعد ہی قیدیوں کے خطوط روانہ یا حوالہ ہوتے ہیں۔اگر چہ یہ بات کچھ اچھی نہ تھی لیکن جرات کی کمی کے باعث میری یہ کوشش رہتی تھی کہ قادیان کو لکھے ہوئے میرے خطوط حکام جیل کے علم میں نہ آنے پائیں۔مجلس اتحاد المسلمین حیدر آباد ایک بڑی ہی ہر دلعزیزہ جماعت ہے۔جیل کا عملہ جیل کے سارے ہی قیدی مجھ سے بڑی محبت اور عقیدت سے پیش آتے تھے۔اگر چہ پہرہ والوں کے سوا مجھ سے کوئی نہ مل سکتا تھا۔ان وجوہ سے حکام کے علم میں آئے بغیر میرے خطوط قادیان کو پوسٹ ہو جاتے تھے لیکن جو خط قادیان سے آتا تھا وہ ہر صورت جبیر کے علم میں آنا ضروری تھا۔جب قادیان بیعت کا فارم آیا تو جیل میں بڑی گڑ بڑ ہوئی۔راز باقی نہ رہ سکا۔کمرہ کی صفائی کرنے والے قیدی، کھانا پہنچانے والے ، اخبار لانے والے وغیرہ وغیرہ کسی نہ کسی بہانے آتے اور مجھ سے پوچھتے کہ کیا آپ قادیانی ہو گئے ہیں ؟ میں انہیں غلط نہ کہ سکتا تھا، لیکن ابھی چونکہ