سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 146 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 146

۱۴۶ نے حضور سے سیکھے تھے۔اس تعلیم و خدمت قرآن کے دائرہ اثر و وسعت سے مشرق باہر ہے اور نہ مغرب نہ شمال باہر ہے اور نہ جنوب۔مصر کا دریا تے نیل تو اپنی طغیانی سے مصر کی سرزمین کو سیراب کرتا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود کی دعاؤں اور تضرعات کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے اس بابرکت وجود کے ذریعہ ساری دنیا میں کلام اللہ کا مرتبہ اس طرح ظاہر ہوا کہ اس نے ساری دنیا کو سیراب کیا اور دریائے نیل کی طغیانی تو کسی خاص موسم کی مرہون منت ہوتی ہو گی مگر سیاں جو سیرابی کا عمل شروع ہوا اس میں کبھی کی نہیں آتی اور اس کا جال بخش اور روح پرور عمل کسی دریا کے کناروں تک ہی محدود نہیں زمین کے کناروں تک پھیل گیا اور قوموں نے اس سے برکت حاصل کی اور آئندہ بھی حاصل کرتی رہیں گی۔انشاء اللہ ! حضور خدا تعالیٰ کے اس خاص فضل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔" میں اسی خدا کے فضلوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ میرا نام دنیا میںہمیشہ قائم رہے گا اور گوئیں مرجاؤں گا مگر میرا نام کبھی نہیں مٹے گا۔یہ خدا کا فیصلہ ہے جو آسمان پر ہو چکا کہ وہ میرے نام اور میرے کام کو دنیا میں قائم رکھے گا اور ہر شخص جو میرے مقابلہ میں کھڑا ہوگا وہ خدا کے فضل سے ناکام رہے گا۔۔۔۔۔خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں۔مجھے کتنا بھی برا سمجھیں ہر حال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیارمیں ہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے " تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر الله ) پچیس سالہ خلافت جو بلی کے جلسہ سالانہ کی تقریر میں بھی آپ نے بطور تحدیث نعمت فرمایا۔میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا۔مگر عہدہ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک امت مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور ان سے فائدہ اُٹھاتے۔وہ کونسا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا مسئله نبوت مستله گهر مسئله خلافت مسئله تقدیر - قرآنی ضروری امور کا انکشاف اسلامی اقتصادیات - اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خدمت دین کی توفیق دی اور اللہ تعالے سيم