سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 113 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 113

گندھک کی آگ سے بنی ہوئی ہو یا حسد کی آگ سے صاحب الخلق رسول اس سے محفوظ کیا گیا ہے۔اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔دوزخ کے شرارے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے لیے ہیں۔اس کے دوستوں کے لیے کوثر کا خوشگوار پانی اور جنت کے ٹھنڈے ساتے ہیں۔صرف اتنی ضرورت ہے کہ وہ ہمت کر کے ان سالوں کے نیچے جا بیٹھیں اور آگے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے کوثر کا پانی لے ہیں۔لوگ اپنے باپ کی زمینوں اور مکانوں کو نہیں چھوڑتے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک جاتے ہیں کہ ہمارا ورثہ ہمیں دلوایا جائے۔اگر مسلمانوں میں سے کوئی بدبخت اپنے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ کو نظر انداز کرتا ہے تو اس پر افسوس ہے کہ اس کو تو فیڈرل کورٹ تک نہیں بلکہ عرش کی عدالت تک اپنے مقدمہ کو لے جانا چاہیئے۔اور اپنا ورثے کر چھوڑنا چاہئے۔اگر وہ ہمت نہ ہارے گا۔اگر وہ دل نہ چھوڑے گا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ اس کو ملے گا اور ضرور ملے گا۔۔۔۔۔سو دوستو بڑھو کہ تمہیں ترقی دی جائے گی۔قربانی کرد کہ تمہیں دائمی زندگی عطا کی جائیگی۔اپنے فرض کو پہچانو کہ خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کر اپنے فرض کو پہچانے کا درجب وقت آئے گا تو نہ صرف تمہارے گھر برکتوں سے بھر جائیں گے بلکہ ہر وہ گوشت کا لوتھڑا جو تمہارے تہم سے نکلے گا اس کو بھی برکتوں کی چادر میں لپیٹ کر بھیجا جائے گا۔اور جو تمہارے ہمسائے میں رہے گا اس پر بھی برکتیں نازل ہوں گی۔جو تم سے محبت کرے گا اس سے خدا تعالیٰ محبت کریگا جو تم سے دشمنی کرے گا اس سے خدا تعالی دشمنی کرے گا۔۔۔۔۔۔قادیان میں ایک امانت فنڈ کی میں نے تجویز کی تھی اور وہ یہ تھی کہ قادیان کی ترقی کیلئے احباب کثرت سے امانتیں قادیان میں جمع کروائیں۔۔۔۔۔۔اس سے احباب کا روپیہ بھی محفوظ رہے گا اور بغیر ایک پیسہ چندہ لیے جماعت کے کام ترقی کرتے رہیں گے قادیان میں اس تحریک کے مطابق ترقی کرتے کرتے ستائیس لاکھ روپیہ اس امانت میں پہنچ گیا تھا اور بغیر ایک پیسہ کی مدد کے احباب کرام سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق پا جاتے تھے۔چنانچہ اس تحریک کا نتیجہ تھا کہ پارٹیشن کے بعد جب سارا پنجاب کٹ گیا۔تو جماعت احمدیہ کے افراد محفوظ رہے اور ان کو اس امانت کے ذریعے دوبارہ پاکستان میں قدم جمانے کا موقعہ مل گیا۔اس کی تفصیل کہ کس کس طرح اس روپیہ کو نکالا اور خرچ کیا۔اور پھر احباب کو واپس