سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 89 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 89

19 نظام میں بھی اور مختلف ممالک کے درمیان بھی۔ہماری بڑائی اس میں نہ ہو کہ ہم اپنے مال اور طاقت کے ذریعہ سے لوگوں کو زیر کریں نہ اس میں کہ ہم اپنے جتھے کے ذریعہ سے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کریں بلکہ ہماری بڑائی کمزور پر رحم کرنے اور حق دار کو اس کا حق دینے میں ہی ہو۔اسے خدا ! تیرا جلال دنیا میں ظاہر ہو اور یسجد تیرے نام کو بلند کرنے اور تیرے بندوں کے دلوں میں محبت و اخلاص پیدا کرنے کا ایک بڑا مرکز ہو۔آمین ! ) الفضل ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۶ ) اس عظیم تاریخی مرکز توحید کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- اس مسجد کے افتتاح میں بڑے بڑے لوگ شامل ہوتے۔تین لارڈ تیرہ مبر بارہ منٹ اور مختلف ممالک کے سفراء وزراء نواب اور دیگر معزز اور سر بر آوردہ لوگوں نے ایک کافی تعداد میں شمولیت اختیار کی اور نہ صرف یہ کہ شمولیت ہی اختیار کی بلکہ ان اعلیٰ طبقہ کے لوگوں نے پرلے درجے کی دلچسپی بھی لی اور خوشی محسوس کی۔بعض نے تو کام کرنے میں بھی فخر سمجھا اور بڑے شوق سے انہوں نے ہر کام میں حصہ لیا پھر ہندوستان کے بڑے بڑے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے حتی کہ مہا راجہ بردوان بھی شامل ہوتے جنہوں نے اس موقعہ پر تقریر کرنے کی اجازت مانگی اور خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ گو میں ہندو ہوں مگر میں اس میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔پھر گیارہ حکومتوں کے قائم مقام بھی اس موقعہ پر آتے۔جرمنی۔اٹلی چین وغیرہ ملکوں کے وزیر بھی تھے۔اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔------- مکان اور زمین پر ستر ہزار کے قریب خرچ ہوا ہے۔ساٹھ ہزار مسجد کی تعمیر اور سامان وغیرہ پر صرف ہوا۔ستر ہزاز وہاں تجارت پر لگا ہوا ہے جو اس لیے وہاں لگایا گیا ہے کہ اس کے نفع سے وہاں کے مشن کے اخراجات پورے کئے جائیں۔ساٹھ ستر ہزارہ کی زمین قادیان میں موجود ہے۔پس جس محنت محبت اور دانائی کے ساتھ یہ روپیہ خرچ کیا گیا ہے اگر اس سے کام نہ لیا جاتا تو اس سارے روپے سے جو ہمیں دیا گیا اتنا کام بھی نہ ہوتا جتنا کہ اب ہوا ہے۔۔۔۔۔پس یہ کام نہایت ہی اخلاص اور دیانت داری ! اور کے ساتھ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔"۔اسی ضمن میں حضور نے ارشاد فرمایا :-