سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 74 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 74

۷۴ اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں۔اگر وہ منظور کر لیں تو جھگڑا مٹ جائیگا، لیکن اگر ان میں سے ایک نہ مانے اور لڑائی پر تیار ہو جائے تو دوسرا قدم یہ اٹھایا جائے کہ باقی سب اقوام اس کے ساتھ مل کر لڑیں اور یہ ظاہر ہے کہ سب اقوام کا مقابلہ ایک قوم نہیں کرسکتی ضرور ہے کہ جلد اس کو ہوش آ جاتے اور وہ صلح پر آمادہ ہو جاتے ہیں جب وہ صلح کے لیے تیار ہوتو میرا قدم یہ اٹھائیں کہ ان دونوں قوموں میں جن کے جھگڑے کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی صلح کرا دیں۔یعنی اس وقت اپنے آپ کو فریق مخالف بنا کر خود اس سے معاہدات کرنے نہ بیٹھیں بلکہ اپنے معاہدات تو جو پہلے تھے وہی رہنے دیں صرف اسی پہلے جھگڑے کا فیصلہ کریں جس کے سبب سے جنگ ہوئی تھی۔اس جنگ کی وجہ سے نئے مطالبات قائم کر کے ہمیشہ کے فساد کی بنیاد نہ ڈالیں۔چوتھے یہ امر مد نظر رکھیں کہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو یہ نہ ہو کہ چونکہ ایک فریق مخالفت کر چکا ہے اس لیے اس کے خلاف فیصلہ کر دو، بلکہ باوجود جنگ کے اپنے آپ کو ثالثوں کی ہی صف میں رکھو فریق مخالف نہ بن جاؤ۔ان امور کو مد نظر رکھ کر کوئی انجمن بنائی جائے تو دیکھو کہ کس طرح دنیا میں بین الاقوامی صلح ہو جاتی ہے سرب فساد اسی امر سے پیدا ہوتا ہے کہ اول تو جب جھگڑا ہوتا ہے دوسری طاقتیں الگ میٹھی دیکھتی رہتی ہیں۔اور جب دخل دیتی ہیں تو الگ الگ دخل دیتی ہیں۔کوئی کسی کے ساتھ ہو جاتی ہے اور کوئی کسی کے ساتھ اور یہ جنگ کو بڑھاتا ہے گھٹاتا نہیں۔اگر دوسری طاقتیں آپس میں مل کر بغیر اپنے خیالات کے اظہار کئے کے پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ حکومتوں کی پنچایت کے ذریعہ اس جھگڑے کو طے کیا جائے اور سب مل کر متفقہ طور پر ایک کو نہیں دونوں کو یا جس قدر حکومتیں جھگڑ رہی ہوں سب کو توجہ دلائیں کہ لڑنے کی ضرورت نہیں بین الاقوامی مجلس میں اپنے خیالات پیش کرو۔اور انصاف کے اس اصل کو مد نظر رکھیں کہ وہ پہلے سے کوئی خیالات نہ قائم کر لیں جس طرح حج فریقین کی باتیں سننے سے پہلے کوئی رائے قائم نہیں کرتا۔پھر دونوں فریق کی بات سن کر ایک فیصلہ کریں جو فریق تسلیم نہ کرے سب مل کر اس سے لڑیں اور جب وہ زہیر ہو جائے تو اس وقت اپنے مطالبات اپنی طرف سے نہ پیش کریں بلکہ پہلے ہی جھگڑے کو سمجھا دیں۔کیونکہ اگر ایسے موقع پر شکست خوردہ قوم کو لوٹنے کی تجویز ہوئی اور ہر ایک قوم نے مختلف ناموں سے