سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 49
۴۹ چاہیئے۔اور ایسے نقوش چھوڑ نے چاہئیں جن سے دُنیا اس کی زندگی کا احساس کر سکے اور اسے معلوم ہو کہ اس دنیا میں فلان شخص آیا تھا اور اس نے فلاں فلاں کام کیا۔میں کام کرنے والی جماعت وہ نہیں ہو سکتی جو چند ر پور میں شائع کر دے بلکہ کام کرنے والی جماعت وہ کہلا سکتی ہے کہ جب کوئی غیر شخص قادیان میں آئے تو بغیر اس کے کہ اسے کوئی بتاتے کہ یہاں خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کی جماعتیں ہیں۔اُسے خود بخود محسوس ہونے لگے کہ یہاں کوئی کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔جب کوئی لاہور میں جائے یا امرتسر میں جائے یا اور کسی شہر میں جاتے تو اس شہر میں داخل ہوتے ہی اُسے یہ محسوس ہونے لگ جائے کہ وہ کسی ایسے شہر میں آیا ہے جہاں کوئی نمایاں کام کرنے والی زندہ جماعت موجود ہے۔چیز ہے جو میں انصار اللہ میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔الفضل ۱۷ - نومبر ۳ جماعت اور ذیلی تنظیمیں جماعت احمدیہ کے نظام پر ایک جامع بیان جلد دوم میں گذر چکا ہے جس میں صدر انجمن احمدیہ کے قیام اور اس کی ترقی یافتہ موجودہ صورت کا تعارف کروایا گیا ہے۔مقامی جماعتوں میں نظم وضبط کو قائم رکھنے اور ہر فرد کی رُوحانی، اخلاقی و جسمانی حالت پر نظر رکھنے اور اس کی بہتری کے لیے کوشش کرنے کے لیے سر جگہ کی جماعت کو حسب حالات محلوں یا حلقوں میں تقسیم کر کے ہر حلقہ کا الگ سر براہ ہوتا ہے جو جماعت کے افراد کی طرف سے منتخب کیا جاتا ہے اور ناظر اعلی کی منظوری سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اس کی مدد کے لیے مختلف عہدیداروں کی ایک مجلس ہوتی ہے جسے مجلس عاملہ کہتے ہیں اور جسے صدر محلہ اپنی صوابدید سے مقرر کرتے اور نظارت علیا کی منظوری کے بعد انفرادی اور اجتماعی مفاد کے کاموں میں ان سے مدد لیتے ہیں۔اس نظام کی موجودگی میں تنظیم در تنظیم کے طور پر مختلف مجالس کے قیام پر یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ ان تنظیموں کے باہم تصادم کا خدشہ ہے اور تنظیمی کام کا تجربہ اور علم رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ بہت ہی مشکل کام ہے جو قوموں کی ترقی و عروج یا زوال و تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعود نے تسخیر کائنات سے متعلق آیات اور نظام فلکی کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ دیکھتے ہوئے کہ آسمان دنیا میں نظر آنے والے بے شمار تارے جو ہمہ وقت گردش میں ہیں اور جو ایک دوسرے پر کتنی لحاظ سے انحصار رکھنے کے باوجود اپنے اپنے مدار میں بے روک ٹوک بغیر کسی تصادم کے رواں دواں اپنا مقصد تخلیق پورا کر رہے ہیں۔