سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 46 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 46

کیا ہے۔اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہے مگر وہ انصاراللہ کی مجلس میں شامل نہیں ہوا تو اس نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی بچہ اطفال الاحمدیہ کی عمر کھتا تھا اور اس کے ماں باپ نے اسے اطفال الاحمدیہ میں شامل نہیں کیا تو اس کے ماں باپ نے بھی ایک قومی جرم کا اور پنجاب کیا ہے " الفضل ۱۳ ستمبر ( ) اگر ہر جگہ مجالس اطفال الاحمدیہ قائم ہو جائیں ، اگر ہر جگہ مجالس خدام الاحمدیہ قائم ہو جائیں اور اگر ہر جگہ مجلس انصاراللہ قائم ہو جائیں تو ساری جماعت پروئی جاتی ہے اور اس طرح جماعت کے تین بار بن جاتے ہیں۔ایک اطفال الاحمدیہ کا ہار۔ایک خدام الاحمدیہ کا ہار۔اور ایک انصار اللہ کا ہار اس تنظیم کے ساتھ ہر فرد جماعت کے سامنے آجاتا ہے اور اس کے متعلق یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔اور دینی کاموں میں وہ کس حد تک ہیپی لیتا ہے۔پھر اس طرح ایک رنگ میں منظم جماعت کی مردم شماری بھی ہو جاتی ہے۔بے تک جلسوں وغیرہ میں پہلے بھی جماعت کے افراد شامل ہوا کرتے تھے۔مگر اس وقت ان پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔اور نہ زیادہ تعہد سے یہ دیکھا جاتا تھا کہ کون غیر حاضر ہے اور اس کی غیر حاضری کی کیا وجہ ہے لیکن اس تحریک کے ماتحت چونکہ سب ہم عمر ایک جگہ اکٹھے کر دیئے گئے ہیں اس لیے وہ ایک دوسرے کی نگرانی کر سکتے ہیں اور انہیں کام کرنے کی مشتق بھی ہوسکتی ہے۔پھر سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح چھوٹی عمر سے ہی بچوں کی تربیت اسلامی اصول کے ماتحت شروع ہو جائے گی۔جو بڑے ہو کر ان کے کام آتے گی۔علاوہ ازیں چونکہ ان می ایس میں شامل ہونے والوں میں سے ہر ایک کوکوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے۔اس لیے ہر فرد کسی نہ کسی رنگ میں سامنے آجاتا ہے۔غرض یہ ایک اتنا اہم کام ہے کہ اگر اس طرف توجہ نہ کی جائے تو جماعتی ترقی کبھی نہیں ہو سکتی اور تر بیتی حصہ میں بھی ہم کامیاب نہیں ہو سکتے " رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ صفحه ۱۲۱ - ۱۲۲ ) خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ ور لجنہ اماءاللہ اسی نظام کی کڑیاں ہیں۔اور ان کو اس لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ نظام کو بیدار رکھنے کا باعث ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ایک طرف نظارہ میں جو نظام کی قائم مقام میں عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ امام اللہ جو عوام کے قائمقام میں نظام