سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 391 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 391

۳۹۱ اور کوئی موت نہیں۔میں تمہارے لیے خدا تعالیٰ کی رضا کا پیغام لایا ہوں جیسے حاصل کرنے کے بعد انسان کے لیے کوئی دکھ نہیں رہتا اور مجھے یقین ہے کہ آج کی مخالفت کل دلوں کو ضرور کھولے گی " الفضل ۱۸ فروری ۹۵ ) جلسه دلی : دلی جو ہندوستان کا دارالحکومت اور حضرت مصلح موعود کا نہال ہونے کی وجہ سے جماعت پر ایک حق رکھتا تھا۔وہاں پر بھی ایک عظیم الشان جلسہ ہو ا جس میں اس سلسلہ حقہ کی صداقت بیان کرنے اور تبلیغ اسلام کے دنیا کے کناروں تک پہنچ جانے کی شہادت و گواہی اور نہایت رقت انگیز ڈھا کے ساتھ جلسہ ہوا۔اس جگہ مخالفین کی کوشش تھی کہ وہ کسی بھی قیمت پر ہمارا جلسہ نہ ہونے دیں۔دشمنوں کی مخالفت اور اس کے مقابل پر حضرت مصلح موعود کا صبر و تحمل اور جرات و بہادری سلسلہ کی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے جس سے تائید الہی اور حضور کی سیرت کے بہت سے حسین پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔اس لیے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تفصیل حضور کی زبانی ہی سنی جائے۔حضور اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ مخالفین ہمارے جلسہ کو روکنے کے لیے ہر طرح کے منصوبے بہت پہلے سے ہی بنا رہے تھے اور یہ کہ تلاوت قرآن مجید کے وقت جب قاری کے منہ سے ایک مقام پر زمیہ کی جگہ زیر ادا ہوئی تو اس کو بہانہ بناتے ہوتے شور و شرارت شروع کر دی گئی۔حضور فرماتے ہیں :۔" پس ان لوگوں کا شروع سے ہی طریق اشتعال انگیز تھا۔ہم نے پہلے جلسہ گاہ میں نماز پڑھی۔پھر قرآن کریم کی تلاوت شروع ہوئی۔مگر ان سب باتوں سے بھی پہلے سے یہ لوگ آوازے کس رہے تھے۔اس جھگڑے کے بعد ان لوگوں نے سارے شہر میں یہ اعلان کیا کہ احمدیوں نے تم پر حملہ کردیا ہے اور لوگوں کو وہاں چلنا چاہتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں طرف سے لوگ اکٹھے ہو گئے اور سات آٹھ ہزار کی تعداد میں جلسہ گاہ کے اردگرد جمع ہو گئے۔لاؤڈ سپیکر تو خراب ہی تھا۔اس لیے ان لوگوں کا شور و شر جلسہ کی کارروائی کو خراب کر رہا تھا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ میری تقریر کے دوران میں وہ کوئی ایسی بات نہ کر سکے کہ تقریر رک جائے۔لیکن جب مبلغین نے تقریریں شروع کیں اور انہوں نے سمجھا کہ شاید اب ہماری تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ہم حملہ کرسکتے ہیں تو انہوں نے اور بھی زور سے نعرے لگانا اور آگے بڑھنا شروع کیا۔پولیس نے ان کو روکا۔مگر وہ رکے نہیں۔اتنے میں مجھے پاؤں کی آوازیں زور سے آنی شروع ہوئیں اور میں نے کھڑے ہو کر