سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 390 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 390

لدھیانہ کے جلسہ کے وقت شدید بارش کی وجہ سے موسم خراب تھا رستہ دشوار گزار اور انتظام کرنے ہیں مشکلات پیش آرہی تھیں۔مگر خُدائے ذوالعجائب برکتوں کے وعدے دے رہا تھا۔اس فضل الہی کے متعلق حضور فرماتے ہیں: جب ہم لدھیا نہ جا رہے تھے تو اس روز بارش ہو رہی تھی۔رستے خراب تھے نہ والوں نے بھی انکار کر دیا کہ ہم دروازہ نہیں کھول سکتے۔دنہر کی پٹری پر سفر کے لیے۔یاد رہے کہ نہر کی پینٹری کا رستہ بہتر اور مختصر تھا۔ناقل ) غرض ایسی حالت ہو گئی کہ میں ڈرتا تھا کہ شاید ہمارا جلسہ بھی ہو سکے یا نہ ہو سکے۔مگر اسی حالت میں مجھے الہام ہوا : " بہت سی برکتوں کے سامان کروں گا۔۔۔۔۔۔میں حیران ہوا کہ حالت تو یہ ہے کہ بارش ہو رہی ہے اور نہروالے بھی رستہ نہیں دے رہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بہت سی برکتوں کے سامان کرونگا به الهام لدھیا نہ جانتے ہوئے راستہ میں ہی مجھے ہوا " الفضل ۲۵ جون ۱۹۳۲ : یہ ان مشکلات میں مخالفین کی طرف سے تمسخر و استہزاء اور گالی گلوچ کے طوفان نے اور زیادہ مشکل صورت حال پیدا کر دی۔مگر لاکھوں کی جماعت کا محبوب امام بارش میں بھیگتا ہوا اپنی مخصوص نشان دلربانی کے ساتھ جلسہ گاہ میں آیا اور اپنے خطاب میں اپنی روایتی اولوالعزمی اور مخصوص حلم و فہم کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ہم ان لوگوں سے ناراض نہیں ہیں۔جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی باتوں سے استہزار کیا۔ہم ان کے لیے بھی دعا ہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے خدا ان لوگوں نے جو کچھ کیا ، نادانی سے کیا۔نا واقعی سے کیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھلانے کی وجہ سے استہزاء کیا مگر اے خدا تو ان کو معاف کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کے قلوب کو سچ کے قبول کرنے کے لیے کھول دے ----- انہوں نے آج اس بات پر استہزاء کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس پر استہزاء کا اب تک نہ ہونا مجھے حیران کر رہا تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے آج میری یہ خواہش بھی ان لوگوں کے ذریعہ سے پوری کردی کیونکہ انہوں نے خوب مخالفت کی ہنسی اڑائی۔اس قسم کا سلوک اب تک کسی اور شہر میں نہیں ہوا تھا۔سوئیں ان لوگوں کے لیے دنما کرتا ہوں۔سواے اہل لدھیانہ جنہوں نے میری موت کی تمنا کی۔میں تمہارے لیے زندگی کا پیغام لایا ہوں۔ابدی زندگی اور دائمی زندگی کا پیغام - ایسی ابدی زندگی کا پیغام جس کے بعد فنا نہیں