سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 389
۳۸۹۔جن کو فروخت کر کے یا گروی رکھ کر ہم اسلام کی تبلیغ آسانی سے کر سکیں۔ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے مگر جمعہ کے دن دو بجے میں نے یہ اعلان کیا اور ابھی رات کے دس نہیں بجے تھے کہ چالیس لاکھ روپیہ سے زیادہ کی جائیدادیں انہوں نے میری آوازہ پر خدمت اسلام کے لیے وقف کر دیں۔جن میں پانچ سو سے زیادہ مربع زمین ہے اور ایک سو سے زیادہ مکان ہیں اور لاکھوں رو پیر کے وعدے ہیں یہ وہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کے نشانات ہیں جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہتے ہیں اور جن کے بعد کوئی ازلی شقی ہی خدا تعالیٰ کے اس نور کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔میں نے اس سے پہلے جس قدر مبلغ دنیا میں بھیجو اتے وہ قریباً سب کے سب انڈی تھے۔کوئی کالج میں سے نکلا تو میں نے اس سے کہا کہ خدا کے دین کے لیے آج مبتخوں کی ضرورت ہے۔کیا تم اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہو ؟ اور میرے کہنے پر وہ تبلیغ کے لیے نکل کھڑا ہوا یہی مولوی ظور حسین صاحب جنہوں نے ابھی روس کے حالات بیان کئے ہیں جب انہوں نے مولوی فاضل پاس کیا تو اس وقت لڑکے ہی تھے ہیں نے اُن سے کہا کیا تم روس جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا میں جانے کے لیے تیایہ ہوں۔میں نے کہا جاؤ گے تو پاسپورٹ نہیں لے گا۔کہنے لگے بے شک نہ ملے۔میں بغیر پاسپورٹ کے ہی اس ملک میں تبلیغ کے لیے جاؤں گا۔آخر وہ گئے اور دو سال جیل میں رہ کر انہوں نے بتا دیا کہ خدا نے کیسے کام کرنے والے وجود مجھے دیتے ہیں۔خدا نے مجھے وہ تلواریں بخشی ہیں جو گھر کو ایک لحظہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔خدا نے مجھے وہ دل بجھتے ہیں جومیری آواز پر ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔میں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کے لیے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہیں۔میں انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لیے کہوں تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں۔میں انہیں جلتے ہوئے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ جلتے تنوروں میں گود کر دکھا دیں۔اگر خود کشی حرام نہ ہوتی ، اگر خود کشی اسلام میں نا جائز نہ ہوتی تو ہیں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھا کہ جماعت کے سو آدمیوں کو ئیں اپنے پیٹ میں خنجر مار کر بلاک ہو جانے کا حکم دیتا اور وہ سو آدمی اسی وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مر جاتا۔خدا نے نہیں اسلام کی تائید کے لیے کھڑا کیا ہے۔خدا نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کرنے کے لیے کھڑا کیا ہے؟ الفضل ١٨ فروری ۱۹۵۷ مصلح موعود نمبر ) ۱۸ -