سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 371 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 371

وقت میں خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے مگر وہ قوم با وجود اس کے کہ ابھی ایک حصہ اس کا ایمان نہیں لایا۔بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز ان کو تمہارے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ہم لڑ کر فنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔تب میں کہتا ہوں۔دیکھو وہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔اس کے بعد میں پھر ان کو ہدایتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دیگر اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں۔چنانچہ اسی لیے میں اس شخص سے جسے میں نے اُس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں۔جب میں واپس آؤں گا تو اسے عبدالشکور میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے۔موحد ہو چکی ہے اور اسلام کے تمام احکام پر کاربند ہو چکی ہے " الفضل یکم فروری سالة ) پیشگوئی کا مصداق : یہ رویا سات آٹھ جنوری ۱ کی درمیانی شب خدا تعالیٰ نے مجھے دکھا یا جس سے یہ بات آسمانی طور پر مجھ پر ظاہر ہو گئی کہ وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنے ایک بیٹے کے متعلق فرمائی تھی۔اور جس کے متعلق یہ تعین فرمائی تھی کہ وہ ۲۰ فروری شاہ سے 9 سال کے عرصہ کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ اُسے آپکا جانشین بنائے گا۔اس سے آپ کے کام کی تکمیل کروائے گا۔اور اس کے وجود میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں کو بھی پورا کرے گا۔وہ میں ہی ہوں۔چنانچہ ۲۸ ؍ جنوری کو قادیان کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے دن میں نے اپنے خطبہ میں اس کا اعلان کر دیا۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر یہ انکشاف کیا گیا ہے۔اس لیے گو میں پہلے بھی مختلف مقامات پر اس کا اعلان کر چکا ہوں۔مگر اب جبکہ ساری جماعت یہاں جمع ہے میں اس کے سامنے ایک بار پھر یہ اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اسی کے انکشاف کے ماتحت میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ وہ مصلح موعود جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت دنیا میں آنا تھا اور جس کے متعلق یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائیگا