سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 35
لواتے خدام الاحمدیہ بھی لہرایا گیا جو ۱۸ فٹ لمبا اور فٹ چوڑا تھا جس کے یا میں لوائے احمدیت کے نقوش تھے بقیہ حصہ تیرہ سیاہ وسفید دھاریوں پر شتمل تھا۔ہرانے کی تقریب کے لیے 4 فٹ لمبا پول تیار کیا گیا۔جس پر سفید وسیاہ رنگ کیا گیا تھا۔لوائے خدام الاحمدیہ کا پلیٹ فارم جلسہ سالانہ کے سٹیج کے باتیں طرف لواتے احمدیت کے پیچھے تھا۔لوائے مجلس برایتے جانے کے وقت اس جلسہ میں موجود ہزاروں خدام بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ یہ عہد دہرا رہے تھے۔أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عبده ورسوله میں اقرار کرتا ہوں کہ قومی اور یتی مفاد کی خاطر اپنی جان، مال اور عزت کی پرواہ نہیں کروں گا۔میں اقرار کرتا ہوں کہ اپنی جان مال اور عزت کو قربان کر دوں گا۔اور اس صداقت کی عزت کو قائم رکھوں گا جس کے ظاہری نشان کے طور پر یہ قومی جھنڈا اس وقت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نصب کر رہے ہیں اور جو علامت ہے ان تمام خوبیوں کی جو حضور خدام الاحمدیہ کے ذریعہ خدام میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور میں ہر مکن کوشش کروں گا کہ یہ جھنڈا اسب دُنیا کے جھنڈوں کے اوپر لہراتا ہے اور کبھی اسے شکست نہ دیکھنی پڑے " کسی قوم یا مجلس کا جھنڈا اس کی عزت و وقار کا نشان ہوتا ہے اور جھنڈے کی عظمت و حفات سے قومی روایات و مزاج جنم لیتا ہے۔اس سلسلہ میں ایک بہت دلچسپ اور سبق آموز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- لاہور کے خدام جب جلسہ میں شمولیت کے لیے آرہے تھے رسالانہ اجتماع۔ناقل تو اس وقت جبکہ ریل سٹیشن سے نکل چکی تھی اور کافی تیز ہوگئی تھی ایک لڑکے سے جسکے پاس جھنڈا تھا ایک دوسرے خادم نے جھنڈا مانگا۔وہ لڑکا جس نے اس وقت جھنڈا پکڑا ہوا تھا ایک چھوٹا بچہ تھا۔اس نے دوسرے کو جھنڈا دے دیا اور یہ سمجھ لیا کہ اس نے جھنڈا پکڑ لیا ہے مگر واقعہ یہ تھا کہ اس نے ابھی جھنڈے کو نہیں پکڑا تھا۔اس قسم کے واقعات عام طور پر ہو جاتے ہیں۔گھروں میں بعض دفعہ دوسرے کو کہا جاتا ہے کہ پیالی یا گلاس پکڑاؤ۔اور دوسرا برتن اٹھا کر دے دیتا ہے۔اور یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس نے پیالی یا گلاس کو پکڑ لیا ہوگا مگر اس نے ابھی ہاتھ نہیں ڈالا ہوتا نتیجہ