سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 342
طرح جو شخص قوم کے لیے فنا ہو جاتا ہے وہ ثابت کر دیتا ہے کہ اس نے قوم کے لیے قربانی کی اور جو قوم کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنے آپ کو قربان کر دیتا ہے وہ خود نہیں رہتا بلکہ قوم بن جاتا ہے۔یہ ہے وہ روح جو ہر احمدی نوجوان کے دل میں پیدا کرنی چاہیتے اور یاد رکھنا چاہتے کہ جن میں یہ روح پیدا ہو جاتی ہے وہ معمولی انسان نہیں رہتے انکے چہروں سے ان کی باتوں سے ان کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ انسان نہیں بلکہ محسم موت ہیں۔۔۔۔۔۔۔جب نوجوانوں میں ہمیں یہ روح نظر آ جائے گی اور ہم دیکھیں گے کہ وہ اسلام کے لیے قربان ہونے کے منتظر بیٹھے ہیں اور پر تو لے ہوئے اس بات کے منتظر ہیں کہ گھر کی چڑیا آئے اور وہ اس پر جھپٹ پڑیں اس دن ہم سمجھیں گے کہ تحریک جدید - کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا۔--- الفضل ۱۳ را پریل ۹۶ ه ) وقف زندگی کی ایک اور رنگ میں اہمیت بتاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔۔۔۔۔۔۔جنگ عظیم میں دو کروڑ آدمی مارے گئے یا زخمی ہوتے تھے۔اریوں ارب روپیہ خرچ ہوا تھا۔صرف انگریزوں کا دو کروڑ روپیہ روزانہ صرف ہوتا تھا۔مگر ہمارے لیے اس سے بڑھ کر جنگ در پیش ہے۔کیونکہ ہمارا کام دلوں کو فتح کرنا اور انسانوں کی عادتوں اور اخلاق اور خیالات کو بدلنا ہے ہم جب تک اپنے اوقات اور اپنے اموال کو ایک حد بندی کے اندر نہ لے آئیں اور اس کے بعد خدا تعالیٰ سے عرض نہ کریں کہ اسے خدا تو نے ہمیں بلایا اور ہم تیرے حضور حاضر ہو گئے ہیں۔اس وقت تک سب دعوے باطل اور امنگیں اور خواہشیں بے سود ہیں اور کوئی چیز نہیں فائدہ نہیں دے سکتی۔خالی دعوای تو پاگل بھی کرتا ہے لیکن اس کے دعووں کو کون وقعت دیتا ہے کیونکہ وہ جو کہتا ہے کرتا نہیں ہے اور عمل کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ریں اللہ تعالیٰ پر اس تحریک کی تکیل کو چھوڑتا ہوں کہ یہ کام اسی کا ہے اور میں صرف اس کا ایک حقیر خادم ہوں۔لفظ میرے ہیں مگر حکم اس کا ہے وہ غیر محدود خزانوں والا ہے اسے میرے دل کی تڑپ کا علم ہے اور اس کام کی اہمیت کو جو ہمارے سپرد ہے وہ ہم سے بہتر سمجھتا ہے پس میں اسی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے سینوں کو کھولے اور ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرے تا وہ ایک مخلص اور باوفا عاشق کی طرح اس کے دین