سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 335 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 335

۳۳۵ کر کے ادا کر دیا ہے ؟ اسی طرح ایک اور مجاہد نے لکھا :- ۱۹۴۰ الفضل ۲۴ نومبر ) خاکسار گذشتہ چھ سالوں میں کم و بیش حصہ لیتا رہا یہ صرف حضور کی دُعاؤں کا نتیجہ ہے ورنہ میرے جیسا انسان اور خصوصاً ان حالات میں سے گزرنے والا جس کے پاس ایک پائی جمع نہ ہو بلکہ دو ہزار روپے کا مقروض ہو جس کی ماہوار آمدنی بمشکل تمام گھر کے افراد کے لیے کافی ہوسکتی ہو وہ محض اللہ تعالیٰ کے رحم اور حضور کی دُعاؤں کے طفیل ہی اس تحریک میں حصہ لے سکتا ہے۔الفضل ۱۹؍ دسمبر شانه ) ایک معمر مخلص احمدی اپنے ایمان و اخلاص کا کس والہانہ انداز میں اظہار کر رہے ہیں :۔か سیدی میں چندہ میں اضافہ کرتا ہوں میرا مولا میری آمدنی میں اضافہ کرتا ہے۔اور میرے مال و اولاد میں برکت بخشتا ہے۔۔۔۔۔چندہ میں نہیں دیتا میرا مالک خالق مجھے دیتا ہے میں منی آرڈر کر دیتا ہوں۔میں نے قرض بھی دیا تھا ان سالوں میں وہ بھی اتر گیا۔مکان کچے تھے پختہ ہو گئے۔میں تو سمجھتا ہوں تحریک جدید کا چندہ اکسیر ہے کیمیا گری ہے۔الفضل ۱۸ دسمبر ۹۲ ) { " ---- اس دفعہ چندہ تحریک جدید ادا کرنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کی ادائیگی کی توفیق دی۔۔۔۔۔۔حالت یہ ہے کہ اس وعدہ کے پورا کرنے کے بعد میرے گھر میں ایک پیسہ بھی نہیں سارا مہینہ ہی قرض پر گزارنا ہے" الفضل ۱۸ نومبر ۳۷ ) فی سبیل الله خرچ کرنے کی وجہ سے مقروض ہونے والے خوش قسمت مخلص نہ جانے کس کس انداز میں خدائے شکور کے ہاں نوازے گئے ہوں گے۔سندھ سے ایک صاحب نے اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا :- " میرے دل میں تحریک ہو رہی تھی کہ سلسلے کی ضروریات اور زمانے کے حالات کے پیش نظر تحریک جدید کے اگلے سال کا روپیہ پہلے ہی ادا کر دوں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور کو چیک دے رہا ہوں۔۔۔۔۔۔" لا ہو لہ سے ایک دوست نے اپنے اخلاص نامہ میں لکھا کہ : پیارے آقا خاکسارتحریک جدید کے دفتر اول میں پلے تیرہ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے