سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 330
٣٣٠ آپ کی حرم محترم سیدہ ام متین صاحبہ کے مندرجہ ذیل بیان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وقف زندگی اور خدمت دین کے لیے حضور کی توجہ اور اہتمام کس حد تک پہنچا ہوا تھا۔حضور نے ۱۹۳۹ء میں ایک عہد بھی کیا تھا جو حضور کی ایک نوٹ بک میں جو حضور عموماً اپنے کوٹ کی اندر کی جیب میں یاد داشت وغیرہ لکھنے کے لیے رکھا کرتے تھے آپ کے قلم سے درج ہے اور وہ یہ ہے :- " آج چودہ تاریخ کو دستی شاہ میں مرزا بشیرالدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سیدہ سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کر رہا ئیں اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا۔یہ عہد سر دست ایک سال کے لیے ہوگا۔مرزا محمود احمد الفضل ۲۵ مارچ ۹۶ ) سادہ زندگی گزارنے کے مطالبہ پر بھی باوجود اس کے کہ حضور کی عام صحت کمزور تھی اور حضور کودن رات جماعتی رہنمائی اور اپنے علمی کاموں کی وجہ سے دماغی کام کرنا پڑتا تھا اور آپ کے لیے خصوصی خوراک اور غذا کی ضرورت تھی۔آپ نے اپنی خوراک کے متعلق کسی الگ اہتمام کی کبھی اجازت نہ دی۔آپ کی حرم محترم حضرت سیدہ مہر آپا فرماتی ہیں کہ : " ڈلہوزی کا واقعہ ہے کہ آپ میز پر کھانا کھانے کے لیے تشریف لاتے تھوڑی دیر میں کیا دیکھتی ہوں کہ آپ خاموشی سے بغیر کھانا کھاتے اپنے کرہ میں چلے گئے ہیں۔میں کچھ نہ سمجھ سکی کہ آپ کی ناراضگی کی وجہ کیا ہے ؟ سب حیران تھے کہ اب پھر تمام دن فاقہ سے رہیں گے اور کام کی استقدر بھرمار ہے کہیں آپ کو ضعف نہ ہو جائے۔آخر میرے پوچھنے پر حضرت بڑی آپا جان را می جان نے بتایا کہ حضرت اقدس نے اپنے کمرہ میں جاکر چٹ بھیجوائی ہے کہ میں نے تحریک جدید کے ماتحت روکا ہوا ہے کہ میز پر صرف ایک ڈش ہوا کرے آج میں نے ایک کی بجائے تین ڈوش دیکھتے ہیں۔ایسا کیوں ہے ؟ میں کھانا ہر کھنہ نہیں کھاؤں گا" الفضل فضل عمر نمبر ة )