سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 329
۳۲۹ کتے ہیں تو مولوی صاحب سخت برافروختہ ہوتے اور گالی گلوچ سے آگے بڑھ کر نوسیت مار پیٹ تک پہنچ گئی۔۔حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید جاری فرمائی اور جماعت کے سامنے جن مطالبات کی شکل میں ایک نهایت جامع اور مفید پروگرام پیش فرمایا۔ان مطالبات پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر خود عمل تحر کے اپنا نهایت شاندار نمونہ دنیا کے سامنے پیش فرمایا :- حضور کا ایک مطالبہ وقت زندگی کا تھا۔حضور نے اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ اپنی ہر قوت و ہر طاقت اور ہر صلاحیت اس طرح خدمت دین کے لیے وقف کی کہ اس کا بیان کسی ایک مضمون میں ممکن نہیں ہے آپ کی سوانح کا ہر ورق اس پر شاہد ناطقی ہے۔وقت زندگی کے متعلق حضور کا ارشاد تھا :- ایمان کی کم سے کم علامت یہ ہونی چاہیئے کہ ہر خاندان ایک لڑکا دے۔الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۳۵-) مگر خود حضور کا اپنا نمونہ یہ تھا کہ آپ نے اپنی ساری اولاد کو ہی راہِ خدا میں وقف کیا ہوا تھا حضور کا ارشاد ہے : "میں نے اپنا ہر ایک بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لیے وقف کر رکھا ہے۔میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کر رہے ہیں۔چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جاتے اس سے چھوٹا ڈاکٹر ہے وہ امتحان پاس کر چکا ہے اور اب ٹریننگ حاصل کر رہا ہے تا سلسلہ کی خدمت کر سکے۔اس عرصہ میں دونوں سلسلہ کے کام پر لگ چکے ہیں الحمد للہ ) باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لیے پڑھ رہے ہیں۔میرے تیرہ لڑکے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لیے وقف ہیں۔" رپورٹ مجلس مشاورت مش ۱۹۴۲ ) اسی طرح 192ء کی مجلس مشاورت میں بھی آپ نے وقف زندگی کی تحریک کرتے ہوئے اپنے متعلق فرمایا :- "آخر میرے تیرہ بیٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے وقت چھوڑا تو میں نے ان کی شکل نہیں دیکھنی۔میرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا "