سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 299
۲۹۹ تحریک جدید ایک ہنگامی چیز کے طور پر میرے ذہن میں آتی تھی۔اور جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا ہے اس وقت خود مجھے بھی اس تحریک کی کئی حکمتوں کا علم نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک نیت اور ارادہ کے ساتھ میں نے یہ کیم جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔کیونکہ واقعہ یہ تھا کہ جماعت کی ان دنوں حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے شدید ہتک کی گئی تھی اور سلسلہ کا وقار خطرے میں پڑ گیا تھا۔پس میں نے چاہا کہ جماعت کو اس خطرہ سے بچاؤں۔مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی رحمت انسانی قلب پر تصرف کرتی ہے اور روح القدس اس کے تمام ارادوں اور کاموں پر حاوی ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں میری زندگی میں بھی یہ ایسا ہی واقعہ تھا جبکہ روح القدس میرے دل پر اُترا اور وہ میرے دماغ پر الیسا حاوی ہو گیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا گویا اس نے مجھے ڈھانک لیا ہے اور ایک نئی سکیم ، ایک دُنیا میں تغیر پیدا کرنے والی سکیم میرے دل پر نا نزل کر دی۔اور میں دیکھتا ہوں کہ میری تحریک جدید کے اعلان سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔قرآنی سکتے مجھ پر پلے بھی کھلتے تھے اور اب بھی گھلتے ہیں۔مگر پہلے کوئی معین سکیم میرے سامنے نہیں تھی جس کے قدم قدم کے نتیجہ سے میں واقف ہوں اور میں کہ سکوں کہ اس اس رنگ میں ہماری جماعت ترقی کرے گی۔مگر اب میری حالت ایسی ہی ہے کہ جس طرح انجینئر ایک عمارت بناتا ہے اور اسے یہ علم ہوتا ہے کہ یہ عمارت یہ کب ختم ہوگی ؟ اس میں کہاں کہاں طاقچے رکھے جائیں گے کتنی کھڑکیاں ہونگی۔کتنے دروازے ہونگے۔کتنی اونچائی پر چھت پڑے گی۔اسی طرح دنیا کی اسلامی فتح کی منزلیں اپنی بہت سی تفاصیل اور مشکلات کے ساتھ میرے سامنے ہیں۔دشمنوں کی بہت سی تدبیریں میرے سامنے بے نقاب ہیں۔اس کی کوششوں کا مجھے علم ہے اور یہ تمام امور ایک وسیع تفصیل کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔تب میں نے سمجھا کہ یہ واقعہ اور فساد خدا تعالیٰ کی خاص حکمت نے کھڑا کیا تھا تا وہ ہماری نظروں کو اس عظیم الشان مقصد کی طرف پھرا دے۔جس کے لیے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔پس پہلے میں صرف ان باتوں پر ایمان رکھتا تھا۔مگر اب میں صرف ایمان ہی نہیں