سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 273 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 273

۲۷۳ واقعی اسلام پسند کو نا پسند نہیں۔یہی وجہ ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی احراری قسم کی تائید ہوئی تو غیر مسلموں کی طرف سے ہوئی۔چنانچہ ایک مشہور غیر مسلم اخبار نے ہماری مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے لکھا :۔" ہم اس کی بزور تائید کرتے ہیں اور گورنر صاحب بہادر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیگر پنجاب میں کم از کم 2 فیصدی نشتیں مقامی کونسل میں اور دو نشستیں مرکزی اسمبلی میں دی جائیں اس سے پولیٹیکل پیچیدگیاں سلجھ جائیں گی۔(اخبار شیر پنجاب - بحواله الفضل ۱۴ مئی ۱۹۳۵-) اس کے برعکس معقول اور لکھے پڑھےمسلمانوںنے کبھی بھی احرار کے طرز عمل کو بند نہ کیا۔قائداعظم کے سوانح نگار اور مشہور مصنف سید ر میں احمد صاحب جعفری نے اپنی کتاب اقبال اور سیاست ملی میں لکھا:۔" اسلام اور قادیانیت مسلمان اور قادیانی ایک خالص دینی اور علمی مسئلہ ہے۔اس پر اسی حیثیت سے بحث و گفتگو ہونی چاہتے۔بدقسمتی سے اس مسئلہ کو جذباتی بنالیا گیا جس سے عوام متاثر بھی ہوئے اور مشتعل بھی۔پھر اس کے نتیجہ میں ہنگامہ آرائیاں اور فساد انگیزیاں بھی ہوئیں۔قتل و غارت اور گشت و خون کے مناظر بھی لوگوں نے دیکھے چنانچہ مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ ان حرکتوں کے باعث یا تو سرے سے مذہب سے بیزار ہوگیا یا کم از کم اس مسئلہ کو اس نے کوئی اہمیت نہیں دی اور دین ملا فی سبیل اللہ فساد کہہ کر خاموش ہو گیا۔(اقبال اور سیاست علی صلا۳ ) مگر مجلس احرار کے خمیر میں تو کانگریس کا نمک تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ علمی رنگ میں جماعت کی مخالفت کرنے والے تمام ان لوگوں کو جو اپنے وقت میں مشاہیر و اکابر میں شمار ہوتے تھے قطعی نا کام قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں : حجۃ الاسلام حضرت علامہ انورشاہ صاحب کا شمیری حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور حضرت مولوی ثنا اللہ صاحب امرتسری و غیر ہم رحم اللہ کے علمی اسلحہ فرنگی کی اس کاشتہ داشتہ نبوت کو موت کے گھاٹ نہ اُتار سکے تو مجلس احرار اسلام کے مفکر اکابر نے جنگ کا رُخ بدلا۔نئے ہتھیار لیے اور علمی بحث و نظر کے میدان سے ہٹ کر