سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 260 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 260

نے لکھا ہے کہ میں نے شیخ محمد عبد اللہ کے دل میں نیشنلزم کا بیج بویا تھا۔شیخ صاحب اس دام ہمرنگ زمین کو نہ سمجھ سکے اور مخلص مسلمان لیڈروں کی مخالفت کے باوجود مسلم کانفرنس کو مشیل کانگریس میں بدل کر عملاً مسلمانوں کی ترقی کی بجائے ہندوؤں کی ترقی اور ان کے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنے لگے۔اور اس طرح مظلوم کشمیری مسلمانوں کے حقوق کے حصول میں تاخیر کا باعث بن گئے اور وہ شاندار کامیابی جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ذریعہ نظروں کے سامنے تھی اسے معرض تاخیر و تعویق میں ڈال دیا۔حضور کا استعفیٰ : حضور کی کوششوں کا محور و مقصد تو کلیتہ مسلمانوں کی خدمت کرنا تھا مگر بعض خود غرض مسلمان لیڈروں اور کشمیری مسلمانوں کے نام سے استحصال کرنے والوں کے بدار ا دوں کو دیکھتے ہوئے حضور نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔آپ کا خُدا داد مقام و مرتبہ تو اس سے کہیں بلند تھا کہ آپ کو ایک سیاسی لیڈر کا مرتبہ حاصل ہوتا۔اسی لیے آپ نے شروع میں ہی آل انڈیا کشمیر کیٹی کی صدارت قبول کرنے سے انکار فرمایا تھا اور جب بعض مسلمان لیڈروں کے اصرار پر اسے قبول فرمایا تو محض اللہ اسیروں کی رستگاری اور مظلوموں کی حق رسی کے لیے قبول فرمایا تھا یہی وجہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں سے حضور کی ہمدردی اور ان کی عملی خدمت آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ آپ نے شروع سے ہی کشمیر یوں کی مفید و موثر خدمات کی تھیں صدارت کے عہدہ سے الگ ہو کر بھی آپ کی خدمات برابر جاری رہیں۔حضور نے ابتداء میں ہی کشمیری مسلمانوں کو تعلیم کے حصول کی طرف توجہ دلاتی تھی اس سلسلہ میں حضورہ ہمیشہ عملاً مدد بھی فرماتے رہے۔حضور کی حوصلہ افزائی درہنمائی سے کشمیریوں کی توجہ تجارت و سیاست وغیرہ کی طرف ہوئی اور اس طرح جو بیج بویا گیا تھا اس کے شیریں ثمرات آج بھی مل رہے ہیں اور یہ کہنا کسی طرح بھی مبالغہ نہیں ہے کہ ریاست کشمیر میں آج جو لوگ مخلصانہ خدمات بجالا رہے ہیں وہ یا ان کے بزرگ اس تحریک کے زمانہ میں آگے آتے تھے اور حضور کی قیادت کا فیض آج بھی جاری ہے اور ریاست میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی ہر ترقی اور کامیابی کے پیچھے ایک مخلص پر درد دل کی دُعائیں اور نیک خواہشات پائی جاتی ہیں سے اک وقت آتے گا کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس خدائی پہ رحمت خدا کرے حضور نے کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دینے کے بعد بھی خدمت اسلام اور انصر أَخَاكَ