سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 26
ضروری نہیں سمجھتا وہ اپنا نقصان آپ کرتا ہے اور دنیا میں لڑائی جھگڑے کی رُوح پیدا کرتا ہے۔پھر جو تبلیغی جماعتیں ہوتی ہیں ان کے لیے تو یہ بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ وہ ساری قوموں سے حسن سلوک کریں اور کسی کو بھی اپنے دائرہ احسان سے باہر نہ نکالیں تا تمام قومیں ان کی مداح نہیں۔پس وہ (خدام الاحمدیہ ) خدمت خلق کے کاموں میں مذہب و ملت کے امتیاز کے بغیر حصہ ہیں۔اور جماعت کے جو اغراض و مقاصد میں ان کو ایسی وفاداری کے ساتھ لیکر کھڑے ہو جائیں کہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں ان کے لیے اپنی جان قربان کر دینا کوئی دو بھر نہ ہو۔جب کسی قوم کے نوجوانوں میں یہ روح پیدا ہو جاتے کہ اپنے قومی اور مذہبی مقاصد کی تکمیل کے لیے جان دے دیا وہ بالکل آسان سمجھنے لگیں۔اس وقت دنیا کی کوئی طاقت انہیں مار نہیں سکتی۔جس چیز کو مارا جا سکتا ہے وہ جسم ہے۔مگر جس شخص کی روح ایک خاص مقصد لیکر کھڑی ہو جاتے اس روح کو کوئی فنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔بلکہ ایسی قوم کا اگر ایک شخص مرے تو اس کی جگہ دس پیدا ہو جاتے ہیں " مشعل راه صفحه ۵۹ - ۲۰) صحت جسمانی : صحت جسمانی اور محنت کی عادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور ارشاد فرماتے ہیں:۔دنیا کے اعداد وشمار کا مقابلہ ذہانت ہی کرسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔كُمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِاِذْنِ اللہ کہ کئی گروہ ایسے ہوتے ہیں جن کی تعداد تھوڑی ہوتی ہے لیکن بوجہ ہمت اور ذہانت وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے كثیر التعداد گروہوں پر غالب آجاتے ہیں۔اگر ہمارے نوجوان اچھی طرح محنت کریں اور کوشش کرکے اعلیٰ قابلیتیں پیدا کریں تو ہم تھوڑے ہو کر بھی کامیاب ہو سکتے ہیں رہیں ہماری کامیابی ہمارے طالب علموں کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے نوجوان اگر اعلیٰ قابلیتیں پیدا کر لیں تو دنیا کے اعداد و شمار ہمارے راستے میں روک نہیں بن سکتے۔۔۔۔۔اگر ہمارے نوجوان ہرفن میں کمال پیدا کرلیں تو ترقی کرنا بہت آسان ہو جاتے۔کیونکہ ایسی صورت میں ہمارا مبلغ جہاں بھی تبلیغ کر رہا ہوگا وہاں یہ بات اس کی مدد کر رہی ہوگی کہ یہ اس قوم کا مبلغ ہے جس میں ایسے ایسے اعلیٰ پایہ کے انسان پائے جاتے ہیں۔جب کوئی قوم قابلیت اور لیاقت میں بڑھ جاتی ہے تو اس کے ہر فرد کی قیمت و قدر بھی بڑھ جاتی ہے بس ہمارے نوجوانوں کو زندگیاں سُدھارنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور اپنی نگاہوں کو اونچا کرنا چاہیتے اور یہ عزم کر لیا