سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 233
۲۳۳ کرنے کے لیے ہندوستان اور اس کے باہر بھی پرو پیگنڈا کی ضرورت ہوگی اور میں اس کام میں سے یہ حصہ اپنے ذمہ لیتا ہوں۔کہ پارلیمنٹ کے ممبروں اور گورنمنٹ ہند کو کشمیر کے مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کرتا رہ ہوں۔اس کے جواب میں مجھے یہ اطلاع بھی آگئی ہے کہ وہاں بعض دوست ایسے حالات جمع کرنے میں مشغول ہیں جن سے ان مظالم کی نوعیت ظاہر ہو گی۔جو اس وقت کشمیر کے مسلمانوں پر روا رکھے جاتے ہیں۔اس فہرست کے آتے ہی میں ایک اشتہار میں ان کا مناسب حصہ درج کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں میں اور دوسرے سر بر آوردہ لوگوں میں تقسیم کراؤں گا۔اور گورنمنٹ ہند کو بھی توجہ دلاؤں گا۔غلاموں کو آزاد کرو اس وقت غلامی کے خلاف سخت شور ہے اور کوئی وجہ نہیں کہکشمیر کی لاکھوں کی آبادی بلا قصور غلام بنا کر رکھی جائے۔آخر غلام اسی کو کہتے ہیں۔جسے رہ پیر کے بدلے میں فروخت کر دیا جائے۔اور کیا یہ حق نہیں کہ کشمیر کو روپیہ کے بدلے میں حکومت ہند نے فروخت کر دیا تھا۔پھر کیا ہمارا یہ مطالبہ درست نہیں کہ جبکہ انگریز عرب اور افریقہ کے غلاموں کے آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ان غلاموں کو بھی آزاد کرائیں۔جن کی غلامی کا موجب وہ خود ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں۔ہر ایک دیا نندار آدمی اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہو گا۔بلکہ میرا تو خیال ہے کہ خود مہاراجہ سر ہری سنگھ صاحب بھی اگر ان کے سامنے سب حالات رکھے جائیں تو اس فلم کی جو ان کے نام سے کیا جا رہا ہے۔اجازت نہ دیں گے۔اور مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دیکر اس فیڈریشن کے اصل کو مضبوط کریں گے جس کی وہ تائید کر رہے ہیں ور نہ کشمیر جیسے غلام ملک اور آزاد ہندوستان میں فیڈریشن کے قیام میں مہا راجہ صاب خواہ کسقدر عقلمند ہوں۔۔۔۔یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہم باشندگان ہندوستان اس امر کو پسند کریں گے کہ مہاراجہ صاحب خود ہی چار پانچ میر اپنی طرف سے مقرر کر کے بھجوا دیں۔اور ہم لوگ ان کی رائے کو اہل کشمیر کی رائے قرار دیکر اس کو وہی عظمت دیں جو کئی لاکھ آبادی والے ملک کے نمائندوں کی رائے کو حاصل ہونا چاہیئے " الفضل ۲ جولائی اسفله )