سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 22 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 22

احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور غلط اجتہاد سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا : نوجوانوں کو غلط قیاس آرائی سے بچایا جائے۔مثلاً اگر حکم دیا جائے کہ خدام فلاں جگہ جمع ہو جائیں۔مگر وقت مقررہ پر آندھی آجاتے یا بارش ہونے لگے تو کوئی خادم یہ قیاس نہ کرے کہ آندھی یا بارش میں کون آئے گا۔بہر حال خواہ کچھ ہو خادم کو وقت مقررہ پر ضرور پہنچ جانا چاہیئے اور اگر وہاں اس کے سوا کوئی نہیں آتے تب بھی خادم مقررہ وقت تک وہاں ٹھہرا رہے۔اس طرح نوجوان غلط اجتہاد سے بچ جائیں گے۔۴۵۰ ) تاریخ احمدیت جلد هشتم خند۲۵ ) شعائر اسلامی کے احترام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :- نوجوانوں میں شعائر اسلامی کے احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے۔تا ان میں ایسی روح اجاگر ہو کہ وہ اسلام کے تمام احکام پر صدق دل سے عمل کرنے لگیں۔ارکان اسلام - نماز - روزہ۔حج اور زکوۃ کی پابندی کریں۔دنیوی تعلیم اور یورپ کے اثرات کی وجہ سے اسلامی تعلیمات اور احکام کو تخفیف اور استہزاء کی نظر سے دیکھنا ایک فیشن سا ہو گیا ہے۔احمدی نوجوان ان اثرات سے بچیں۔رعب دجال سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں اور بے راحمدی کی رو کا مقابلہ کریں۔غرض اپنے قول و فعل سے اس نازک دور میں اسلامی تعلیمات اور حرمات اسلام کی برتری ثابت کر دیں " ایک اور موقعہ پر فرمایا :- خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی لیے کیا گیا ہے کہ بچپن اور نوجوانی میں بعض لوگ بیرونی اثرات کے ماتحت کمزور ہو جاتے ہیں۔اور ان میں کسی قسم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں بعض لوگ دوسری سوسائٹیوں سے بُرا اثر قبول کر لیتے ہیں اور بعض تربیت کے نقائص کی وجہ سے آوارگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔خُدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ اس بیرونی تغییر کو احمدیہ نہ۔کو جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے دیں۔اور اس مقصد کو ہمیشہ نوجوانوں کے سامنے رکھیں جس کے پورا کرنے کے لیے جماعت احمدیہ قائم کی گئی ہے ؟ ( مشعل راہ ملا) احمدی نوجوانوں کو روحانیت میں ترقی کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا : " تم نے ابدال کا ذکر سُنا ہو گا۔ابدال در حقیقت وہی ہوتے ہیں جو جوانی میں اپنے اندر تغیر پیدا کر لیتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کر لیتے ہیں کہ بڑھے بڑھے