سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 210
بس ۲۱۰ کا امن برباد ہو جاتے گا۔۔۔۔۔چنانچہ اس قسم کی آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے بعد جب روس برطانیہ امریکہ اور چین سب طاقتیں مل کر دنیا ملا من قائم کریں گی توجر من اور جاپان سے نہ صرف وہ تمام چیزیں لے لی جائیں گی جن پر انہوں نے غاصبانہ قبضہ کیا تھا بلکہ ان کی بغاوت کی سزا کے طور پر ہمیشہ کے لیے ان کی قوت کو کچل دیا جائے گا اور انہیں ابتدائی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ابتدائی انسانی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ شخص کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ جو پیشہ اپنے لیے مناسب سمجھتا ہے اس پیشہ کو اپنی زندگی کا جزو بنا تے۔۔مگر اس حق سے بھی جرمنی اور جاپان کو محروم کرنے کی سکیمیں تیار ہو رہی ہیں۔۔۔الفضل اا راکتو بر ۹۲۳لته ) انصاف کے تقاضوں کو مد نظر نہ رکھنے کی صورت میں تیسری عالمگیر جنگ کے بیج بونے کے متعلق انتباہ کرتے ہوئے حضور نے بڑے واشگاف الفاظ میں فرمایا : ----- اگر اس جنگ کے بعد اتحادیوں نے اپنی غلطی سے لڑائی کے حقیقی اسباب کو دور کرنے کی کوشش نہ کی اور مفتوح قوموں پر نا جائز دباؤ سے کام لیا تو جلد یا پندرہ میں سال کے بعد۔۔۔۔۔جنگ کی ہولناکیوں سے دو چار ہونا پڑے گا پھر انہیں لوگوں کے سامنے لیکچر دینے پڑیں گے کہ جاؤ اور میدان جنگ میں اپنی جانیں قربان کرد۔۔۔۔۔۔اگر حکمت عملی سے کام لے کر تباہی کے دروازے کو بند کیا جا سکے تو وجہ کیا ہے کہ ابھی ایک نسل اپنی قربانی سے فارغ بھی نہیں ہوئی کہ پھر پھانسی کا پھندا دوسری نسل کے لیے تیار ہو جاتے۔پھر گولیاں ان کے سینے کو چھلنی کرنے کے لیے تیار ہونی شروع ہو جائیں اور پھر تباہی اور بربادی ان کو اپنا لقمہ بنانے کے لیے منہ کھولے کھڑی ہوپس اگر اس تباہی کو روکا جاسکتا ہو تو ہمارے لیے اس کا روکنا نہایت ضروری ہے تاکہ ہماری آئندہ نسل اس مصیبت سے محفوظ رہے اور اسے اپنی جانوں کی قربانی نہ کرنی پڑے۔مگر یہ کام ایسا ہے جس کو سرانجام دینے کی ہم میں طاقت نہیں ہم دوسروں کو نت نصیحت کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔اگر اس جنگ کے بعد تیسری جنگ ہوئی تو وہ اس دوسری جنگ سے بہت زیادہ خطرناک ہوگی۔یہ خیال بھی کسی قوم کے افراد کو اپنے دلوں میں نہیں لانا چاہتے کہ جب ہم لوگوں سے تو ہیں چھین لیں گے تلواریں۔۔۔۔ہوائی جہاز۔۔۔ہم چھین لیں گے اسی