سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 191 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 191

۱۹۱ اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں کہ وہ بھی انسان ہیں۔بہرحال پندرہ بیس لاکھ انسان رات اور دن بغیر دم لیے لڑرہے ہیں اور ٹینکوں اور موٹر گاڑیوں کے نیچے کٹتے چلے جارہے ہیں۔۔۔- ادھر مرنے والے مرتے ہیں اور ادھر فوج کو حکم ملتا ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹو پھر اور آدمی مرتے ہیں تو پھر حکم ملتا ہے کہ ایک قدم اور پیچھے ہٹو اس طرح وہ لاشوں کے انبار چھوڑتے ہوئے پیچھے کو ہٹتے چلے جاتے ہیں ؟ الفضل در جون ته ) - اس خطبہ کے آخر میں بنی نوع انسان کی ہمدردی و خیر خواہی کے اسلامی جذبات بھی نمایاں نظر آتے ہیں جو خدا کے مقرب بندوں ہی کا حصہ ہیں اور دنیوی سیاسی لیڈروں میں یہ بات کم ہی نظر آسکتی ہے۔یہاں یہ امر بھی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ حضور اپنی خداداد فراست بلکہ اللی نوشتوں کے مطابق یہ یقین رکھتے تھے کہ اس جنگ میں مخالف حالات کے باوجود بالاخر اتحادیوں کی فتح ہوگی۔تاہم حضور نے انگریزوں کے خلاف حق بات کہتے ہوئے بڑے واشگاف الفاظ میں فرمایا :- "اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان دنوں برطانیہ پر جو ابتلا آیا ہوا ہے اس کے متعلق چاہے ہنسیں چاہے ٹھٹھا اور مذاق کریں چاہے ہمیں پاگل اور مجنون سمجھیں حقیقت یہ ہے کہ یہ اُن آہوں کا نتیجہ ہے جو ۱۹۳۷ - ۱۹۳۵ تہ اور ۱۹۳۶ تہ میں ہمارے دلوں سے بند ہوئیں۔میرے اس وقت کے خطبات چھپے ہوئے موجود ہیں۔انکو نکال کر پڑھ لیا جائے میں نے متواتر ان خطبات میں کہا ہے کہ انگریز یہ مت خیال کریں کہ اُن کے پاس تو ہیں ، فوجیں، ہوائی جہانہ اور ہم ہیں۔کیونکہ میں خدا پر ہمارا انحصار ہے اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں۔انہوں نے اس وقت میری اس آوازہ پر کان نہ دھرا اور کہا اس کی کیا حیثیت ہے یہ ایک چھوٹی سی جماعت کا فرد ہے جسے ہم جب چاہیں تباہ کرسکتے ہیں اور جب چاہیں مار سکتے ہیں۔اور یہ نہ سمجھا کہ خدائی مذہب انسانوں کے قید ہونے یا انسانوں کے مارے جانے کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔(الفضل (۲ جون نا ) یہ الفاظ جہاں ایک طرف اس غیر متزلزل ایمان ویقین کے منظر ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات پر حضور کو حاصل تھا وہاں یہ بھی سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے معاند ہمارے خلاف انتہائی ظالمانہ طریق پر بالکل خلاف واقعہ و خلاف قیاس انگریزوں کی خوشامد کرنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔کیا مندرجہ بالا خیالات کسی خوشامدی ذہن میں آسکتے ہیں ؟ کیا کوئی خوشامدی ایسے خیالات کا اس طرح بر ملا جنگ کے۔۴