سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 180
اس جنگ میں 41 ملکوں نے حصہ لیا جنکی مجموعی آبادی دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ۸۰ فیصدی بنتی ہے۔دونوں طرف سے لڑنے والی فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ تھی۔محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ نے ۵ کروڑ انسانی جانوں کو تلف کیا۔زخمی و ناکارہ ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ایٹمی حملہ کے بد اثرات تو قریباً نصف صدی کے بعد آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔اسلامی مفاد کے لیے اضطراب : # اب یہ سینگیں ہماری تاریخ کا حصہ اور قصہ پارینہ بن چکی ہیں مگر سنتہ کے دہا کے کے آخری سالوں اور تہ کے دہا کے کے ابتدائی سالوں میں اس سے زیادہ عام ۱۰ ہم اور ضروری اور کوئی موضوع نہیں تھا۔اس عظیم تباہی کی وجوہ و اسباب تو اس کتاب کا موضوع نہیں ہے تاہم حضرت فضل عمر کا اسلامی مفاد کے لیے اضطراب و دردمندی پر مبنی مندرجہ ذیل بیان ضرور ہر قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچے گا۔البانیہ ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست ہے جو پہلے ترکوں کے ماتحت تھی، لیکن جنگ عظیم کے زمانہ میں عیسائی حکومتوں کی شہ پر وہ آزاد ہوگئی اور ان حکومتوں کی عادت ہے کہ پہلے ایک علاقہ کو ایک حکومت سے آزاد کراتی ہیں اور پھر خود ہڑپ کر جاتی ہیں۔ایسا ہی البانیہ سے ہونے والا ہے چونکہ یہ اسلامی حکومت ہے اس لیے کوئی عیسائی حکومت اس صریح ظلم میں کوئی مؤثر مداخلت کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن اس قسم کے صریح مظالم خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا دیتے ہیں اور وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ مظلوم کی حمایت نہ کرنے والے کسی اور رنگ میں مبتلاتے آلام ہو جاتے ہیں ہو سکتا کہ البانیہ پر حملہ کسی رنگ میں کسی عیسائی حکومت کو بھی اپنی پیٹ میں لے آئے اور پھر بڑی بڑی حکومتوں کو جنگ میں شامل ہونا پڑے " الفضل ۱۱ را پریل ۱۹۳۹ حضرت مصلح موعود نے اس جنگ کی ابتداء سے ایک عرصہ قبل دنیا کو انتباہ کرتے ہوئے آنیوالے خوفناک حالات کے متعلق آگاہ فرمایا تھا۔حضور نے فرمایا : عہ کی مجلس شوری میں میں نے بیان کیا تھا کہ آج سے دس سال کے اندراندر ہندوستان میں اس بات کا فیصلہ ہو جانے والا ہے کہ کونسی قوم زندہ رہے اور کسی کا نام و نشان مٹ جائے۔حالات اس سرعت اور اس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ جو قوم یہ سمجھے کہ آج سے ہیں پچیس سال بعد کام کرنے کے لیے تیار ہو گی وہ زندہ نہ رہ