سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 163
۱۶۳ معجزات ، پیش گوئیوں ، انبیاء اور غیر انبیاء کے خوابوں ، رموز استعارات قرآنی و مقطعات کی حقیقی حکمتی اور ایمان افروز تعبیروں سے تفسیر کبیر کے اوراق تابناک ہیں۔اس عظیم تفسیر میں تعلیمات اسلامی کا فلسفہ نہایت عمدہ طور پر پیش کیا گیا ہے دوسرے مذاہب کی تعلیموں اور معروف فلسفوں سے موازنہ و مقابلہ بھی عالمانہ منصفانہ رنگ میں کیا گیا ہے۔اسلامی تعلیمات کی پر شوکت فضیلت سے دل کو طمانیت گیا راحت و تسکین ملتی ہے اور ذہن کو رفعت حاصل ہوتی ہے اس تفسیر کا انداز نظر عصری اور سائنسی بھی ہے۔فلسفیانہ اور حکمتی بھی اور وجدانی و عرفانی بھی۔اس تفسیر کر کے عالم علم و عرفان کی تجلیات بیان کرنے کے لیے دفتر در دفتر چاہئیں۔یہ تفسیر ملت اسلامیہ کی بے بہا دولت ہے۔قرآن حکیم کی اس تفسیر سے امت محمدیہ کا مستقبل وابستہ ہے" مجلہ الجامعہ ربوہ شمارہ نمبر ۹ صفحه ۳ ۶ تا ۲۵) یہ معلوم کرنا آسان کام نہیں ہے کہ حضور کے اس علمی معجزہ نے کتنی زندگیوں میں روحانی انقلاب پیدا کیا معمولی ہی کوشش سے ہزاروں ایسے افراد نکل آئیں گے جنہوں نے تفسیر کبیر پڑھ کر قرآن مجید سے ایک نیا تعلق اور خدا تعالیٰ کے قرب کا مقام حاصل کیا۔کتنے ہی خوش قسمت ہیں کہ اس کتاب نے ان کی عملی زندگی میں نیک و پاک تبدیلی پیدا کر دی۔ذیل میں صرف بطور مثال بعض مشہور غیر از جماعت افراد کے تاثرات دیتے جا رہے ہیں۔علامہ نیاز فتح پوری ایک مشہور ادیب ہیں جنہوں نے حضور کی خدمت میں تغیر کبیر کے مطالعہ کے بعد تحریر کیا۔تفسیر کبیر جلدسوم آجکل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تبحر علمی ، آپ کی وسعت نظر، آپ کی غیر معمولی فکر 3 ہم فراست ، آپ کا حسین استدلالی اس گے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا۔کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور