سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 162 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 162

یہ تفسیریں سراج منیر ہیں۔ان سے قرآن حکیم کی حیات بخش شعاعوں کا انعکاس ہوتا ہے۔تفسیر قرآنی کی یہ دولت سرمدی دنیا اور عقبیٰ کے لیے لاکھوں سلطنتوں اور ہزاروں ہزار جنتوں سے افضل ہے۔علوم قرآنی کے گھر ہائے آبدار کان معانی و معدنِ عرفان سے نکالے گئے ہیں۔خواص معارف پر فدا ہونے کو جی چاہتا ہے۔ان تفسیروں کی خوبیاں بیان کرنے کے لیے ایک دفتر چاہیئے۔۔۔میری ناچیز راتے میں تفسیر کبیر مندرجہ ذیل خوبیوں کی حامل ہے۔اس میں قرآن کریم کے تسلسل ، ربطہ تنظیم ، ترتیب، تعمیر اور سورتوں کے موضوعات و معانی کی ہم آہنگی کوصاف ، روشن و مدتی طور پر ثابت کیا گیا ہے۔قرآن مجید صرف ایک مسلک مروارید نہیں بلکہ یہ ایک مانی قصر الحمراء ہے۔ایک زندہ تاج محل ہے۔اس کے عناصر ترکیبی کے حسن کارانہ نظم و ضبط ، اس کے تراشیدہ ایجاز بیان ، اس کی معجزانہ صنعت گری ، اس کی گھری، وسیع اور بلند معنی آفرینی اور اس کے غیر مختتم خزینہ علم و عرفان کا شعور تفسیر کبیر کے مطالعہ سے حاصل ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔حضرت مرزا محمود احمد نے نہایت لطیف و بلیغ انداز میں اس امر کو درجہ یقین تک پہنچا دیا کہ قرآن مجید ایک کتاب عظیم ہے اور اس کے ابواب و عناصر اس کی سورتیں اور آیات گل و سیدہ کی طرح حسین یوسف کی مانند نظام شمسی کی مثال مربوط و منظم ، متناسب۔ہم آہنگ اور حسین میں تفسیر کبیر کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس میں انسانی تقاضوں ، ضرورتوں اور مسلوں سے وابستہ بہ کثرت نئے مضامین ، نکتے اور تفصیلیں ملتی ہیں اور ہماری روح اور ذہن کی تشنگی بجھاتی ہیں۔ہر سورۃ ہر پارہ کی تفسیر می معارف اور علوم کا دریا تے رواں جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے۔اس کے ذریعہ نئے علوم اور نئے مسائل پر گہری تنقید میں ملتی ہیں اور اسلامی نظریوں کا اتنا تسلی بخش اظهار و بیان ملتا ہے کہ آخرالذکر کی برتری ثابت ہو جاتی ہے۔تفسیر کبیر میں قص قرآن کی عارفانہ تعبیری اور تفصیلیں ملی ہیں علم و حکمت، روحانیت و عرفان ، نکسته دانی و وضاحت کی تجلیاں شکوک و شبہات کے خس و خاشاک کو دور کر کے تقیم و تسکین کی راہیں صاف و روشن کر دیتی ہیں۔تاریخ عالم قوموں کے عروج و زوال، اسباب زوال ، سامان عروج ، نفسیات اجتماعی فرد و جماعت کے روابط اور بندے کے اللہ سے تعلق کی اعلیٰ تحقیق و توضیح ملتی ہے۔پالت