سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 157 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 157

104 مقام مسئلہ ارتقا۔آئندہ زمانہ کے متعلق عظیم الشان پیش خبریاں - فلسفه حلت و حرمت قرآنی تمثیلات و استعارات کی پر حکمت تشریح۔مقطعات جن و انس کی حقیقت - شیطان اور سجدہ آدم - ذوالقرنین کے متعلق تحقیق - قرآنی قسمیں وغیرہ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محترم پیر معین الدین صاحب نے کمال خلوص و محنت سے مخزن معارف کے نام سے تفسیر کبیر کا خلاصہ تیار کر کے شائع کروا دیا ہے۔فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء تغیر کے سلسلہ میں حضور کی غیر معمولی محنت ومصروفیت : تفسیر کبیر کا کام حضور کی سالوں کی محنت شاقہ اور الی تائید کے نتیجہ می مکن ہوا میں دھن اور لگن سے یہ کام کیا گیا اس کا کسی قدر نقشہ حضور کے مندرجہ ذیل بیان سے سامنے آتا ہے۔میری طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل رہتی ہے اور چونکہ قرآن شریف کے ترجمہ اور تفسیر کے کام کا بہت بڑا بوجھ ان دنوں ہے اور جلسہ تک دن بہت تھوڑے رہ گتے ہیں۔مگر ابھی کوئی ایک سو صفحہ کتاب کا یا چارسو کالم مضمون کا لکھنا باقی ہے اور آج کل اکثر ایام میں رات کے ۳ - ۴ بلکہ ۵ بجے تک بھی کام کرتا رہتا ہوں۔اس لیے اس قسم کی جسمانی کمزوری محسوس کرتا ہوں کہ اس قدر بوجھ طبیعت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی۔چونکہ جلسہ تک دن تھوڑے رہ گئے ہیں اس لیے دوستوں سے چاہتا ہوں کہ دُعا کریں۔اللہ تعالیٰ خیریت سے اس کام کو پورا کرنے کی توفیق دے۔وہ لوگ جو میرے ساتھ کام کر رہے ہیں اور جن کا کام کتابت کا پہیوں کی تصحیح کرنا اور مضمون صاف کر کے لکھنا وغیرہ ہے۔وہ بھی بہت محنت سے کام کر رہے ہیں۔اتنی دیر تک روزانہ کام کرنے کی انہیں عادت نہیں۔پھر بھی ۲ - ۳ بجے رات تک کام کرتے ہیں۔ممکن ہے اس سے بھی زیادہ دیر تک کام کرتے ہوں۔مگر ۲- ۳ بجے تک تو کئی دفعہ بات پوچھنے کے لیے میرے پاس آتے رہتے ہیں۔ایسی طرح کا پہیاں لکھنے والے کاتب ہیں۔بے شک وہ اُجرت پر کام کرتے ہیں۔مگر جس قسم کی محنت انہیں کرنی پڑتی ہے اور ނ وہ کر رہے ہیں۔وہ اخلاص کے بغیر نہیں ہو سکتی۔روزانہ کام کیا جائے معمول - دو گنا کیا جائے اور اچھا کیا جائے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔کاتب کا کام آنکھوں