سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 156
104 پر نہیں بلکہ یہود کی روایات پر اور اس طرح دشمنوں کو اعتراض کا موقع دے دیا ہے اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ لا تَصَدِ تُوهُمْ وَلَا تُكَذِبُوهُمُ ان کے ذہن میں رہتا تو یہ مشکل پیش نہ آتی بہرحال ان دو غلطیوں کو چھوڑ کر جو محنت اور خدمت ان لوگوں نے کی ہے اللہ تعالیٰ ہی ان کی جزا ہو سکتا ہے " کچھ تفسیر کبیر کے متعلق) اس تفسیر کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں آیات و سور کے باہم تعلق و ترتیب کے حسن کو نمایاں کیا گیا ہے۔حضور فرماتے ہیں :- " پس میں چونکہ ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سور کو ملحوظ رکھ کر تفسیر کیا کرتا ہوں اس لیے اگر کوئی شخص میری ترتیب کو سمجھ لے تو گو میں نے کسی آیت کی کہیں تفسیر کی ہوگی اور کسی آیت کی کہیں درمیانی آیات کا حل کرنا اس کے لیے بالکل آسان ہوگا۔کیونکہ ترتیب مضمون اسے کسی اور طرف جانے ہی نہیں دے گی۔۔۔۔۔۔اسی طرح میری تفسیر کے نوٹوں سے انسان سارے قرآن کریم کی تفسیر سمجھ سکتا ہے۔بشرطیکہ وہ ہوشیار ہو اور قرآن کریم کو سمجھنے کا تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۵ ) مادہ اپنے اندر رکھتا ہو اسی طرح حضور فرماتے ہیں :- حقیقت یہ ہے کہ اگر قرآن کریم کی ترتیب کو مد نظر رکھا جائے اور اس پر غور اور تدبر کرنے کی عادت ڈالی جاتے تو اس کی بہت سی مشکلات خود بخود حل ہو جاتی ہیں" ( تفسير كبير سورة مريم ص۳۲۳ ) قرآن مجید کی بہت سی ایسی پیشگوئیاں جو ہمارے زمانہ سے تعلق رکتی ہیں انہیں بیان کرنے میں یہ تفسیر بے نظیر ہے۔حضرت مصلح موعود کے اس سوانحی خاکہ میں تفسیر کبیر کے مضامین کا خلاصہ یا نمونہ پیش کرنا تو مکن نہیں ہے تاہم مندرجہ ذیل مشکل مقامات و مضامین کی تفسیر پڑھ کر سرور و کیف اور علم و معرفت کا ایک اور ہی عالم نظر آتا ہے۔من و سلوای - حضرت موسی کی ہجرت اور گزرگاہ - اصحاب کہف - عرش الہی۔کلام الہی کے امتیاز اور شجرہ طیبہ سے مماثلت۔قوم عاد قوم ثمود - قوم مدین اور دوسری پرانی اقوام کے متعلق تحقیق - ترتیب نزول و موجودہ ترتیب میں اختلاف کی حکمت۔پیدائش عالم و تخلیق آدم - آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کا رفیع التا