سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 145 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 145

۱۴۵ جان ہے سارے تقوی وطہارت کی۔قرآن کریم کی ایک ایک ی تقلبی میں تغیر پیدا کر دیتی ہے جو دنیا کی ہزاروں کتا ہی نہیں کر سکتیں۔قرآن کریم پڑھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ درس جاری کیا جائے۔بہت سی ٹھوکریں لوگوں کو اس لیے لگتی ہیں کہ وہ قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے۔پس ضروری ہے کہ ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کیا جائے۔تاکہ قرآن کریم کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو۔میں سمجھتا ہوں درس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت راسخ ہو جائے گی اور بہت سے فتن کا آپ ہی آپ ازالہ ہو جائے گا۔" تقریر دلپذیر جلسه سالانه ۱۹۲۵ صفحه ۳۱ ۳۲۰ ) حضور کے ایسے ارشادات کی تعمیل میں جماعت میں یہ نہایت با برکت طریق جاری ہے کہ قریباً ہر جماعت میں اور بہت سے خوش قسمت اپنے گھروں میں بھی درس قرآن مجید کا اہتمام کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے عام افراد کاعلمی معیار و ذوق دوسروں کی نسبت بہت بہتر ہونے میں اس مبارک طریق کا بہت بڑا دخل ہے۔خدمت قرآن کا وسیع دائرہ : کم و بیش ۲ ہزار خطبات جمعہ۔جلسہ سالانہ اور عیدین کی تقاریر وخطبات کے علاوہ خدام انصار - اطفال ولجنات اور مجلس تشخید الا زبان اسی طرح مدرسہ احمدیہ - جامعہ احمدیہ - جامعه المبشرين مجلس ارشاد نیشنل کور - انجمن ترقی اسلام - انجمن اشاعت اسلام کشمیر کیٹی وغیرہ کی مختلف تقاریب اور جلسوں میں حضور کی ہزاروں پر معارف تقاریر و مضامین قرآن مجید کی تفسیر پر ہی مشتمل ہیں کیونکہ حضور کا یہ طریق مبارک تھا کہ آپ بالعموم قرآن مجید کے کسی مقام کی نہایت پیارے لحن و انداز میں تلاوت فرماتے اور پھر اس کی دلوں کو گرما دینے والی پر معارف تشریح و تفسیر بیان فرماتے اور بعض مواقع پر آپ کی تقریر میں قرآنی تلاوت کے بغیر بھی قرآن مجید کے کسی مقام کی ایسی واضح تشریح ہوتی کہ سننے والے کا ذهن خود بخود اس مقام کی طرف جاتا اور وہ علوم و معارف کے ایک نئے عالم سے متعارف ہو جاتا۔ان ہزاروں تقاریر وخطبات کے علاوہ آپ کی تمام مستقل تصانیف بھی قرآنی انوار کی ایسی بارش کی طرح ہیں جو ضرورت کے وقت نازل ہو کہ ہر گوشہ زمین کو سیراب کر دیتی ہے۔حضور کے ذریعہ اکناف عالم میں جو تبلیغی وتعلیمی مشن قائم ہوئے وہ قرآنی تعلیم کے ایسے مراکز ہیں جہاں حضور کے شاگردان علوم و معارف کے سکھانے میں دیوانہ وار مصروف و مشغول ہیں جو انہوں