سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 121 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 121

وشق ۳-۵-۵۵ عزیزم مرندا البشیر احمد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! آج دمشق آئے تیسرا دن ہے۔ہوائی جہاز میں تو اس حادثہ کے سوا کہ اس کے کمبل گلو بند کی طرح چھوٹے عرض کے تھے اور کسی طرح بدن کو نہیں ڈھانک سکتے تھے خیریت رہی۔سردی کے مارے میں ساری رات جاگا اور پھر وہم ہونے لگا کہ شاید مجھے دوبارہ حملہ ہوا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں ساری رات مجھے کمبلوں سے ڈھانکتے رہے مگر یہ ان کے بس کی بات نہ تھی۔آخر جب میں بہت نڈھال ہو گیا توئیں نے چوہدری صاحب کی طرف دیکھا جو ساتھ کی گرمی پر تھے۔تو ان کا چہرہ مجھے بہت نڈھال نظر آیا اور مجھے یہ وہم ہو گیا کہ چوہدری صاحب بھی ہمار ہوگئے ہیں۔اب یہ دو وہم جمع ہو گئے۔ایک یہ کہ مجھ پر دوبارہ فالج کا حملہ ہو گیا اور ایک یہ کہ چوہدری صاحب بھی بیمار ہو گئے۔اس سے تکلیف بہت بڑھ گئی۔آخر میں نے منور احمد سے کہہ کر نیند کی دوائی منگوائی۔چوہدری صاحب نے قہوہ منگوا کر دیا۔وہ گرم گرم پیا ایک ایسپرین کی پڑیا کھائی تو پھر جا کر نیند آئی اور ایسی گہری نیند آتی کہ جب چوہدری صاحب صبح کی نماز پڑھ چکے تو میں جاگا چو ہدری صاحب نے عذر کیا کہ آپ کی بیماری اور بے چینی کی وجہ سے میں نے آپ کو نماز کے لیے نہیں جگایا۔بہر حال قضائے حاجات کے بعد کرسی پر نماز ادا کی اور پھر ناشتہ یا۔اتنے میں روشنی ہو چکی تھی۔دُور دُور سے عرب اور شام کی زمینیں نظر آ رہی میں بہر حال بقیه سفر نہایت عمدگی سے کٹا اور ہم سات بجے دمشق پہنچ گئے۔ایرو ڈرم به بر دشتی کی جماعت کے احباب تشریف لاتے ہوئے تھے جو سب بہت اخلاص سے پر ملے۔برادرم منیر الحصنی بھی جماعت کے ساتھ تشریف لاتے ہوئے تھے۔ایروڈرم کے ہال میں جا کر بیٹھ گئے جہاں پاکستان کے منسٹر بھی چوہدری ظفر اللہ خاں کے ملنے کے لیے تشریف لاتے ہوئے تھے۔مستورات کے لیے برا دارم سید بدرالدین حصنی جو منیر الحصنی صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں کی مستورات تشریف لائی ہوئی تھیں۔وہ مستورات کو گھر لے گئیں۔پیچھے پیچھے ہم بھی پہنچ گئے۔محبت اور اخلاص کی وجہ سے بدرالدین صاحب حسنی نے سارا گھر ہمارے لیے خالی کر دیا ہے۔اس وقت بھی ہم اس