سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 120
۱۲۰ ہمارا پہلا قافلہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوائی جہانہ کے ذریعہ قاہرہ پہنچ چکا ہے۔19 کومیں نشاء اللہ تعالی رات ساڑھے بارہ بجے بقیہ قافلہ کے ساتھ دشق روانہ ہونگا۔وہاں سے انشاءاللہ تعالیٰ دوسری تار دی جائے گی۔احباب جماعت نے خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے فکر سے بچانے کی کوشش کی ہے۔الا ماشاء اللہ بعض اشخاص کے جنہوں نے باوجود سفر اور بیماری کے نیش زنی سے پر میز نہیں کیا۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مخلص گروہ ہی جیتے گا۔اور وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ میری بیماری کی وجہ سے انہیں سر اُٹھانے کا موقعہ مل گیا ہے ناکام و نامراد ہوں گے۔اور خدا تعالیٰ مخلص حصہ کا ساتھ دیگا۔اور دن اور رات کے کسی حصہ میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کراچی آنا بہت مفید ثابت ہوا ہے اور یہاں یورپ کے علاج کے متعلق نہایت مفید مشورے حاصل ہوئے ہیں۔اور ڈاکٹروں نیے نہایت محبت سے علاج کے مثبت اور منفی پہلو سمجھا دیتے ہیں۔اب صرف ایک تشخیص باقی ہے۔ڈاکٹروں کی رائے یہ ہے کہ وہ تشخیص یورپ میں ہی ہو سکتی ہے اور یہ کہ اگر وہ بھی تسلی دلانے والی ہو تو انشاء اللہ تعالی بیماری کا کوئی حصہ بھی تشویشناک باقی نہیں رہے گا۔۔۔۔۔۔اگر جماعت کے احباب کی دُعائیں اللہ تعالیٰ سُن سے تو کوئی تعجب نہیں ایسی صورت نکل آتے کہ میں چند دن یا چند ہفتے اس وقت کے قیاس سے پہلے آسکوں۔والعلم عنداللہ گو زور ان کا یہی ہے کہ وہاں کی آب و ہوا سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے۔جو اس مرض کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔بعض علاجوں کے متعلق انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ سخت تکلیف دہ ہیں۔اگر وہاں کے ڈاکٹر وہ علاج تشخیص کریں تو اس سے انکار کر دیا جائے اور کہا جائے کہ ہم یہ علاج کراچی میں کروا لیں گے۔جہاں یہ سب سامان موجود ہے۔مگر ان کی رائے یہی ہے کہ ایسے سخت علاج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔انشاء اللہ۔مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی ۲۷۴/۵۵ الفضل تیم متی را هوا کراچی سے حضور دمشق تشریف لے گئے تھے۔اس سفر اور قیام دمشق کے متعلق حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا :