سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 102 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 102

١٠٢ الشبانه طریقہ کو یاد رکھو جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔میں نے ساری عمر جیب بھی اس رنگ میں اخلاص کے ساتھ دعا کی ہے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس دعا کے قبول ہونے میں دیر ہوئی ہو۔اگر تم اس رنگ میں اپنے رب سے محبت کرو گے اور اس کی طرف جھکو گے تو وہ ہمیشہ تمہاری مدد کے لیے آسمان سے اترتا رہے گا۔ایک دولت میں تمہیں دیتا ہوں۔ایسی دولت جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔ایک علاج میں تمہیں عطا کرتا ہوں وہ علاج جو کسی بیماری میں خطا نہیں کرے گا۔ایک عصا میں تمہارے حوالے کرتا ہوں۔ایسا عصا جو تمہاری عمر کی انتہائی کمزوری میں بھی تمہیں سہارا دے گا۔اور تمہاری کمر کو سیدھا کر دیگا۔اسے خُدا تو اپنے ان بندوں کے ساتھ ہو۔جب انہوں نے میری آواز پر لبیک کمی تو انہوں نے میری آواز پر لبیک نہیں کی بلکہ تیری آواز پر لبیک کہی۔اسے وفادار اور صادق الوعد خدا۔اسے وفادار اور پیچھے وعدوں والے خدا تو ہمیشہ ان کے اور ان کی اولادوں کے ساتھ رہیو اور ان کو کبھی نہ چھوڑ یو۔دشمن ان پر کبھی غالب نہ آئے اور یہ بھی اسی مایوسی کا دن نہ دیکھیں جس میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں سب سہاروں سے محروم ہوگیا ہوں۔یہ ہمیشہ محسوس کریں کہ تو ان کے دل میں بیٹھا ہے۔ان کے دماغ میں بیٹھا ہے اور ان کے پہلو میں کھڑا ہے۔اللهم آمین۔بعض ڈاکٹر جو زیادہ ماہر نہیں ہیں وہ تو میرے جانے پر گھبراتے ہیں مگر ماہر ڈاکٹر یہی کہتے ہیں کہ جلدی جاؤ اور جلدی آؤ۔بہر حال شخص کے مرتبہ کے مطابق اس کی بات پر یقین کیا جاتا ہے۔میں ان ماہرین کی رائے پر اعتبار کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے جاتا ہوں۔خدا کرے میرا یہ سفر صرف میرے لیے نہ ہو بلکہ اسلام کے لیے ہو اور خدا کے دین کے لیے ہو۔اور خدا کرے کہ میری عدم موجودگی میں تم غم نہ دیکھو۔اور جب میں لوٹوں تو خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت میرے بھی ساتھ ہو اور تمہارے بھی ساتھ ہو۔ہم سب خدا کی گود میں ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے پاس کھڑے ہوں۔مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ۲۱/۳/۵۵ الفضل ۲۲ مارچ ۱۹۵۵