سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 43
علاوہ ازیں بعض اور تنظیمیں بھی آپ کی اجازت سے قائم ہوئیں جن میں سے احمدیہ انٹیرز کور۔اور آل انڈیا نیشنل لیگ زیادہ مشہور ہیں۔احمدیہ والٹیرز کو بعض ملکی حالات کے پیش نظر رفاہ عامہ - خدایت خلق مسلمانان ہند کی بہبود اور احمدی نوجوانوں میں تنظیمی روح پھونکنے کی غرض سے نہ میں قائم کی گئی اس کے افسر اعلیٰ حضرت صاجزادہ مرزا شریف احمد صاحب مقرر ہوتے اور اس میں شامل ہونیوالے وانٹیرز کا نام عباد اللہ رکھا گیا۔مجلس شوری میں غور وفکر کے بعد حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کور کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے فرمایا۔۔۔۔۔۔اس تجویز کو ہم دو نقطہ نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ایک وقتی اور سیاسی حالات کے ماتحت اور یہ بہت محدود نقطہ نگاہ ہے کیونکہ وقتی اور سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں، لیکن جب یہ حالات پیدا ہوں تو ان کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ان کے علاوہ ایسے حالات ہیں جن کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے۔اور وہ مستقل تربیت کی ضرورت ہے جس سے کبھی کوئی جماعت مستغنی نہیں ہو سکتی۔نیک خاندانوں میں شریر اور شریر خاندانوں میں نیک لوگ پیدا ہوجاتے ہیں۔نوجوانوں کو خطرہ میں پڑنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی صحیح طور پر تربیت کی جائے۔مگر اس میں دقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں جوش ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی تربیت کریں۔ان کے سامنے نہ لڑکے ہوتے ہیں اور نہ لڑکوں کے جرائم۔نہ لڑکوں کی نیکیاں ہوتی ہیں اور نہ ان کی غلطیاں - ایک جماعت کا مقامی امیر اپنی جماعت کے لڑکوں کی تربیت کر سکتا ہے مگر لڑکوں کی برائیاں اور نقائص اس کے سامنے نہیں آتے۔اگر ہر جگہ وانٹیرز کو ربنا لیں تو اس سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ ایک وقت میں جماعت کی تربیت کی طرف نگاہ رکھنے والے آدمیوں کے سامنے سارے نوجوان آجایا کریں گے۔اور وہ ان کو نصائح کر سکیں گے۔مذہبی اور اخلاقی و حفظ کیا جاسکے گا۔گویا اس طرح تربیت اور نصائح کرنے کے مواقع زیادہ ملنے لگ جائیں گے۔اس کے علاوہ ایک دوسرے کے ذریعہ نگرانی بھی کرائی جائے گی۔پھر عارضی ضرورتوں کی وجہ سے بھی اس قسم کے انتظام کی ضرورت ہے۔قسمتی سے ملک میں یہ احساس پیدا کیا جا رہا ہے کہ میں کی لاٹھی اس کی بھینس۔بیرون نہایت گندی ہے مگر پیدا ہو گئی ہے۔میں گذشتہ سال جب سیالکوٹ گیا تو وہاں ایک جلسہ میں ہم پر پتھر برسائے گئے اور سوا گھنٹہ تک برسائے گئے۔ہماری جماعت نے ان پتھروں کا