سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 388
بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے۔میرے سامنے دین اسلام کے خلاف جوشخص بھی آواز بلند کرے گا اس کی آواز کو دبا دیا جائے گا۔وہ رسوا کیا جائے گا وہ تباہ اور برباد کیا جائے گا مگر خدا بڑی عزت کے ساتھ میرے ذریعہ اسلام کی ترقی اور اس کی تائید کے لیے ایک عظیم الشان بنیاد قائم کر دے گا۔میں ایک انسان ہوں میں آج بھی مرسکتا ہوں اور کل بھی مرسکتا ہوں لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ میں اس مقصد میں ناکام رہوں جس کے لیے خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ اسلام مغلوب ہو گیا۔اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ میرے ماننے والوں پر میرے انکار کرنے والے غالب آگئے تو بے شک سمجھ لو کہ میں ایک مفتری تھا، لیکن اگر یہ خبر سیتی نکلی تو تم خود سوچ لو تمہارا کیا انجام ہو گا کہ تم نے خدا کی آواز میری زبان سے سنی اور پھر الفضل ۱۸ار فروری شو ) بھی اسے قبول نہ کیا اسی خطاب میں آپ نے اپنے دعوی کے متعلق حلفیہ بیان دیتے ہوئے فرمایا : میں اسی واحد و قہارہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھا نا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افتراء کرنے والا اس کے عذاب سے کبھی بیچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اسی شہر لاہور میں سا ٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور میں ہی ہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعہ اسلام دُنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہو گی۔" الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۴۷ اس جلسہ میں حضور نے جماعت احمدیہ کی بے مثال جانی و مالی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ایک طرف اگر خدا نے یہ خبر دی کہ وہ میرے ذریعہ دنیا میں اسلام کا نام روشن کر گیا تو دوسری طرف اس نے ایک جماعت میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے وہ ایمان پیدا کر دیا جس کی مثال آج روئے زمین پر اور کوئی جماعت پیش نہیں کر سکتی۔ابھی ایک خطبہ جمعہ میں میں نے جماعت کے سامنے اعلان کیا کہ اسلام اس وقت تم سے خاص قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔تم اگر خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی تمام جائیدادیں اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دو تا کہ جب بھی اسلام پر کفر کا حملہ ہو ہیں اس کے مقابلہ کے لیے یہ پریشانی نہ ہو کہ ہم روپیہ کہاں سے لاتیں بلکہ ہر وقت ہمارے پاس جائیدادیں موجود ہوں