سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 387 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 387

" یہ اللہ تعالیٰ کی وہ دُعائیں ہیں جن میں انبیا۔اور اُن کی ابتدائی جماعتوں کے لیے خدا نے ایک طریق راہ بیان فرمایا ہے۔اس کے بعد میں قرآنی الفاظ میں ہی اپنے رب کو مخاطب کر کے اس کے حضور نذر عقیدت پیش کرتا ہوں۔دوست بھی ان الفاظ کو دہراتے جائیں : چنانچہ حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ اپنی زبان مبارک سے ادا فرمائے۔امَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعُقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ ( آل عمران : ۸۵ ) مُسلِمُونَ۔تمام مجمع نے ایک بار پھر اشکبار آنکھوں اور دردمند قلوب کے ساتھ ان الفاظ کو دہرایا اور اس وقت یوں محسوس ہوا کہ آسمان سے انوار الہیہ کا نزول ہو رہا ہے اور فرشتے دلوں کو ہر قسم کی میں کھیل سے صاف کر کے انہیں پاکیزہ و مطر بنا رہے ہیں ؟ الفضل وار فروری ۹۵۶انه ) ان جلسوں میں حضور مصلح موعود کی پیشگوئی اس بارہ میں خدائی انکشاف اور پھر اس نشان کے پورا ہونے کا نہایت پر شوکت اور موثر رنگ میں بیان فرماتے۔وہ نظارہ بہت رُوح پرور اور وجد آفرین تھا جب حضور نے اس مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چلہ کشی فرمائی تھی یہ اعلان فرمایا کہ : " میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس شہر ہوشیار پور میں سامنے والے مکان میں نازل ہوئی جس کا اعلان آپ نے اس شہر سے فرمایا۔وہ پیشگوئی میرے ذریعہ سے پوری ہو چکی ہے اور اب کوئی نہیں جو اس - الفضل 9 فروری شاه ) پیشگوئی کا مصداق ہو سکے۔لاہور کے جلسہ میں بھی مبلغین کی تقاریر اور عرش الہی کو ہلا دینے والی دعا کے بعد حضور نے حق تبلیغ ادا کرتے ہوئے فرمایا : " اسے اہل لاہور میں تم کو خُدا کا پیغام پہنچاتا ہوں میں تمہیں سے ازلی ابدی خدا کی طرف بلاتا ہوں جس نے تم سب کو پیدا کیا تم مت سمجھو کہ اس وقت میں بول رہا ہوں اس وقت میں نہیں۔