سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 351 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 351

الٹی تیرے فضلوں کو کروں یاد بشارت تو نے دی اور پھر یہ اولاد کہا ہرگز نہیں ہونگے یہ برباد بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہو شمشاد بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فسبحان الذى اخرى الأعادي وسعت کار اور بعض مشکلات -:- اس عظیم الشان مقصد کے حصول کے لیے وقفت جدید انین احمدیہ اپنی تمام طاقتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دن رات کوشاں ہے، لیکن یہ کام اتنا عظیم الشان اور وسیع ہے اور ذرائع اتنے تھوڑے اور کمزور ہیں کہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے سوا اس کا سرانجام پانا ممکن نظر نہیں آتا۔مشرقی اور مغربی پاکستان میں گیارہ سو جماعتیں قائم ہوچکی ہیں جو تمام کی تمام خصوصی توجہ در تربیت کی محتاج ہیں اور اس بات کی حقدار ہیں کہ وہاں ایک ایسا واقف زندگی معلم مقرر ہو جو ایک طرف تو افراد جماعت ، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو کم سے کم ضروری دینی تعلیم سے آراستہ کرے اور دوسری طرف اپنی اعلیٰ روحانی زندگی اور عملی نمونے سے ایک ایسا روحانی انقلاب برپا کر دے کہ کثرت سے جماعتوں میں ولی صفت انسان پیدا ہونے لگیں۔اسی کا ذکر کرتے ہوتے حضور فرماتے ہیں :- " جن لوگوں نے ہمارے ملک میں اسلام کو پھیلا یا امنی کے نقش قدم پر چل کر تم بھی قدرت اسلام کرد - روحانیت کے لحاظ سے آج بھی ہمارے ملک کو چشتیوں ، نقشبندیوں سرور دلوں کی ضرورت ہے۔جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور ان بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے پیش کریں۔اس مقصد کے حصول کی راہ میں دو بڑی مشکلات حائل ہیں۔اول معیاری واقفین زندگی کی کمی۔دوسرے مالی تنگی۔واقفین زندگی کی کمی سے مراد یہ ہے کہ وقف کرنے والوں میں اس نہایت اہم کام کے قابل افراد بہت کم ملتے ہیں اور زیادہ تعداد ایسے وقف کرنے والوں کی ہے جن کی تعلیمی حالت اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ اس کم از کم معیار پر بھی پورے نہیں اُترتے جو یک سالہ تربیتی کلاس میں شامل ہونے کیلئے ضروری ہے نیز خلوص اور جوش خدمت کے لحاظ سے بھی اُن میں سے اکثر اس معیار سے بہت نیچے ہوتے ہیں جو حضرت مصلح موعود کا مطمح نظر تھا۔پس وقف جدید کو ضرورت ہے ایسے ڈی ہوش مخلص تعلیم یافتہ واقفین زندگی کی جو دین کو دنیا پر