سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 315
۳۱۵ پندرہواں مطالبہ : وہ نوجوان جو گھروں میں بے کار بیٹھے روٹیاں توڑتے ہیں اور ماں باپ کو مفروض بنا رہے ہیں انہیں چاہتے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جاتیں۔۔۔۔۔مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بعض نوجوان ماں باپ کو اطلاع دیتے بغیر گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔یہ بہت بُری بات ہے۔جو جانا چاہیں اطلاع دے کر جاتیں اور اپنی خیر و عافیت کی اطلاع دیتے رہیں " الفضل ۹ - دسمبر ۹۳۳ة ) اس سلسلہ میں نوجوانوں کی ترقی و بہتری کے لیے رہنمائی کرتے ہوئے حضور نے قبل ازیں یہ بھی فرمایا تھا کہ : " وہ تعلیم یافتہ احمدی نوجوان جو بے کاری کی حالت میں اپنے خاندانوں کے لیے بار بنے ہوتے ہیں اور اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں اگر غیر ملکوں میں جاکر اپنی قسمت آزمائی کریں تو ان کے لیے بھی بہتر ہوگا اور اس طرح جماعت کے نوجوانوں میں ترقی کرنے کی روح بھی پیدا ہو گی۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک ملک میں کسی کے لیے ترقی کرنے کا موقع نہیں ہوتا ، لیکن دوسرے ممالک میں جا کر اس کے لیے ترقی کا رستہ کھل جاتا ہے۔اس میں مشکلات اور خطرات بھی ہوتے ہیں۔حتی کہ جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے، لیکن ترقی کی امنگ رکھنے والوں کو اس قسم کے خطرات کی پرواہ نہیں ہوتی در اصل جس چیز کی وجہ سے ترقی حاصل ہوتی ہے وہ عزم و استقلال حوصلہ اور قربانی کا مادہ ہوتا ہے۔جو نو جوان اس ارادہ کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں کہ خواہ کچھ ہو قدم آگے ہی آگے بڑھائیں گے وہ دنیوی ترقی کی منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں؟ الفضل ، متى ١٩٣٣ ) رمتی سولھواں مطالبہ -: " جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔یہ تحریک میں قادیان سے شروع کرنا چاہتا ہوں اور با ہر گاؤں کی احمدیہ جماعتوں کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنی مساجد کی صفائی اور لیاتی و غیر